رواں مالی سال کے پہلے9 ماہ میں 3.58کھرب روپے قرض ادا کیا گیا اور پاکستان کی آمدن 3.4کھرب روپے رہی۔وزارتِ خزانہ نے جولائی2022 تا مارچ 2023 مالی آپریشن کی تفصیلات جاری کر دیں۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق حکومتی اخراجات بشمول دفاع، تنخواہ، ترقی اور سبسڈیز قرض کی رقم سے ادا ہوئی۔ مالی آپریشن کی تفصیلات کے مطابق پہلے 9ماہ میں 3.07کھرب روپے کا خسارہ پورا کرنے کے لیے قرض لینا پڑا۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق جولائی 22 تا مارچ 23 ملک کی مجموعی آمدن سے 6.39 کھرب حاصل ہوئے، صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 2.95 کھرب روپے ادا کیے جس کے بعد مرکز کے پاس 3.44 کھرب رہ گئے۔ وزارتِ خزانہ کی طرف سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق جولائی 22 تا مارچ 23 قرضوں کی ادائیگی پر 3.58 کھرب روپیخرچ کیے، قرض اور سود کی ادائیگی اور صوبوں کا حصہ دینے کے بعد مرکز خسارے میں چلا گیا۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کے ذریعے حکومت نے 362 ارب روپے اکٹھے کیے، داخلی قرضوں کی ادائیگی پر3.1 کھرب اور غیرملکی قرضوں پر 0.47 کھرب روپے خرچ ہوئے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق جولائی 22 تا مارچ 23 دفاع پر ایک کھرب روپے خرچ ہوئے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- وزارت اطلاعات نے پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹ قرار دیدیا
- مٹھی:ایمبولینس میں سلنڈرھماکہ اورآتشزدگی،8 افراد جاں بحق، 5 زخمی
- غازی آباد: ’گلموہر گرینز سوسائٹی‘ کے 2 ٹاور منہدم کیے جائیں گے، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے دیا حکم
- مدھیہ پردیش: چیتے کو گولی مارے جانے کی تفتیش کے لیے ایس ٹی ایف تشکیل
- مرکز اور اتر پردیش میں ’تعلیم کے بدلے خون‘ کا کاروبار کرنے والے آدم خور برسراقتدار ہیں: کانگریس