ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد وفد بھیجنے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ایک ایرانی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کے بارے میں فیصلہ ابھی تک زیر غور ہے اور اس حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ جب بھی مذاکرات کسی نتیجہ خیز مرحلے تک پہنچیں گے، ایران اپنی شرکت سے متعلق فیصلہ اسی وقت کرے گا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران ابتدا ہی سے امریکا کے بارے میں محتاط اور عدم اعتماد پر مبنی مؤقف رکھتا ہے، اگرچہ بعض سفارتی امور پر بات چیت جاری رہتی ہے، تاہم کسی بھی حتمی قدم کا انحصار مکمل صورتحال اور مذاکرات کے نتائج پر ہوگا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کی بحری نقل و حمل اور کھلے سمندروں میں تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، جسے سمندری قزاقی اور ریاستی سطح پر جارحیت کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے، اس نوعیت کے اقدامات امریکا کے طرزِ عمل اور نیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کھلے سمندروں میں ایرانی جہازوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور یہ اقدامات عالمی ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 40 دن پر محیط حالیہ کشیدگی کے دوران مخالف فریق اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، اگرچہ اس دوران ایران کو جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور اہم شخصیات کو بھی کھویا گیا، تاہم عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت کے باعث صورتحال کو کنٹرول میں رکھا گیا۔
ترجمان وزارتِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ ایران کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرے گا، تاہم اس پورے سفارتی عمل کا نتیجہ خیز ہونا بنیادی شرط ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت تک اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت کا کوئی فیصلہ نہیں کرے گا جب تک تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ نہ لے لیا جائے، کسی بھی فیصلے سے قبل عوام کو مکمل طور پر آگاہ کرنا ایران کی سفارتی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔