امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سمندری گزرگاہوں کی صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، جہاں ایک جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بحری ناکا بندی کے دوران 28 جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے یا واپس اپنی بندرگاہوں کی طرف لوٹنے پر مجبور کیا گیا، وہیں تہران نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
امریکی عسکری حکام کے مطابق یہ جہاز ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم ناکا بندی کے باعث انہیں اپنا سفر ادھورا چھوڑ کر واپس جانا پڑا۔ یہ اقدام ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکی دعوے حقائق کے منافی ہیں اور ان کے کئی بحری جہاز نہ صرف اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب رہے بلکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے میں بھی انہیں کوئی بڑی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ تہران نے اسے امریکی اقدامات کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دباؤ اور دھمکی کے ماحول میں کسی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں۔
ایرانی حکام نے واضح کیا کہ یہی کشیدہ صورتِ حال اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے عمل کو بھی متاثر کر رہی ہے، کیونکہ ان کے بقول کسی بھی سفارتی پیش رفت کے لیے سازگار ماحول ناگزیر ہوتا ہے، جو اس وقت موجود نہیں۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت گزشتہ روز بھی غیر معمولی حد تک محدود رہی، اور 24 گھنٹوں کے دوران صرف چند جہاز ہی اس اہم راستے سے گزر سکے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی توانائی کی رسد گزرتی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں کے جواب میں ایران نے بھی اس اہم سمندری راستے پر نگرانی اور پابندیوں کو مزید سخت کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں صورتِ حال مزید الجھ گئی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث متعدد بحری جہاز اور ہزاروں ملاح خلیجی پانیوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
اقوام متحدہ سے وابستہ بحری شعبے کے ذمہ داران نے اس صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جاری کشیدگی نہ صرف عالمی تجارت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ملاحوں کی جانوں کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عالمی سمندری تجارت اور توانائی کی فراہمی پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔