ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری گھیرا بندی کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے اسے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے اطراف امریکی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کسی بھی طور پر معمول کی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح جنگی اقدام ہے، جو جاری جنگ بندی کی روح اور اصولوں سے متصادم ہے۔
عباس عراقچی نے اس امر پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا کہ ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا اور اس کے عملے کو یرغمال بنایا گیا، جسے انہوں نے نہایت سنگین اور ناقابل قبول اقدام قرار دیا۔ ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عالمی تجارتی نظام کے لیے بھی خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران دباؤ یا دھمکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں اور وہ اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن صلاحیت رکھتا ہے، ایران پابندیوں کے اثرات سے نمٹنے اور اپنے مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری اس صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ضروری ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور انصاف کو یقینی بنایا جائے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔