امریکا کو ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران میزائلوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کے باعث مستقبل میں اسلحے کے ذخائر میں کمی کے سنگین خدشات کا سامنا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق دفاعی ماہرین اور امریکی محکمۂ دفاع کے تازہ ترین جائزوں سے آگاہ تین ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی فوج نے اپنے جدید اور اہم نوعیت کے میزائلوں کے ذخائر میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ چند برسوں میں کسی نئی جنگ کی صورت میں اسلحے کی قلت کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
امریکی دفاعی امور پر نظر رکھنے والے ایک معتبر تحقیقی ادارے کے تازہ تجزیے کے مطابق گزشتہ 7 ہفتوں کے دوران امریکی افواج نے درست نشانہ لگانے والے طویل فاصلے کے میزائلوں کے ذخیرے کا کم از کم 45 فیصد استعمال کیا ہے۔ اسی طرح بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے جدید دفاعی نظام کے میزائلوں کا نصف سے زائد حصہ بھی اسی مدت میں خرچ ہو چکا ہے، جبکہ فضائی دفاع کے لیے استعمال ہونے والے ایک اور اہم میزائل نظام کے ذخائر کا بھی تقریباً 50 فیصد استعمال کر لیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمۂ دفاع نے رواں سال کے آغاز ہی میں میزائلوں کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے متعدد نئے معاہدے کیے تھے، تاہم ان منصوبوں کے تحت اضافی اسلحہ تیار ہونے میں 3 سے 5 سال تک کا وقت درکار ہوگا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ جنگ بندی برقرار نہیں رہتی تو امریکا کے پاس اگرچہ محدود مدت کے لیے ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت موجود رہے گی، لیکن طویل مدت میں اس کے دفاعی ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ موجودہ استعمال کی رفتار کے باعث امریکا کے پاس وہ اسلحہ کم ہوتا جا رہا ہے جو مستقبل میں کسی بڑے عالمی حریف، خصوصاً چین، کے مقابلے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان ذخائر کو دوبارہ جنگ سے قبل کی سطح پر لانے میں کئی برس لگ سکتے ہیں، جس کے دوران امریکا کی دفاعی حکمتِ عملی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔