لاہور: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو رہا کر کے انہیں سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ ملک میں جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔
لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والے رابطے کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، سیاسی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہونے چاہئیں، ملک کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈے خود ان کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، پاکستان اس وقت ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کو ممکنہ تیسری عالمی جنگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے، موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو دیگر بڑی طاقتیں بھی اس تنازع میں شامل ہو سکتی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کو سراہا ہے، تاہم ملکی پالیسیوں میں تسلسل اور بہتری کی ضرورت ہے، سی پیک منصوبہ عمران خان کے دور میں سست روی کا شکار ہوا جو تاحال پوری طرح بحال نہیں ہو سکا۔
انہوں نے دینی مدارس کے حوالے سے کہا کہ مشرف دور، تحریک انصاف اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے،مدارس کی رجسٹریشن کا عمل رکا ہوا ہے اور ان کے بینک اکاؤنٹس بھی نہیں کھولے جا رہے، جس سے تعلیمی نظام متاثر ہو رہا ہے، حکمرانوں کا موجودہ عروج عارضی ہے اور وقت کے ساتھ سیاسی حالات بدلتے رہتے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ تمام فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔