اسلام آباد: پاکستان میں مہنگائی کی شرح نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کا گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی تازہ رپورٹ کے مطابق حساس قیمتوں کے اشاریے میں سالانہ بنیادوں پر 14 اعشاریہ 52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ملک میں جاری معاشی سست روی اور سخت مالیاتی پالیسیوں کے باوجود مہنگائی کا دباؤ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومت اس صورتحال کو قابو کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے، جس سے متوسط طبقہ شدید اضطراب میں مبتلا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 64 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 61 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے بلوں، آٹے، ایل پی جی، پیاز اور ٹماٹر جیسی بنیادی اشیاء بھی شہریوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
ماہرین معاشیات ڈاکٹر جاذب ممتاز نے کہا کہ عالمی منڈی میں جاری کشیدگی کے باعث ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھے ہیں، جس کے اثرات براہ راست پاکستان کی خوراک اور اشیا کی قیمتوں پر پڑے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ریلیف دینے کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں موجود غیر یقینی صورتحال کے سبب ذخیرہ اندوزی کا رجحان بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں کمی کرکے عوام پر مالی بوجھ کم کرے تاکہ انہیں کچھ ریلیف مل سکے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے خبردار کیا ہے کہ مئی 2026 تک کنزیومر پرائس انڈیکس 11 اعشاریہ 5 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ اگر ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو کم آمدنی والے طبقے کے لیے آنے والے مہینوں میں زندگی گزارنا مزید مشکل ترین ہو جائے گا۔
اگرچہ حالیہ ہفتے کے دوران چکن، انڈوں اور دالوں کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، تاہم یہ ریلیف مجموعی مہنگائی کے سامنے بے اثر ہے۔ عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، اور عوام حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں۔