جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی کے معاملے پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں پیش رفت نہ ہو سکی، جہاں اسرائیل نے لبنانی مطالبات کے باوجود اپنی افواج کے انخلا سے انکار کرتے ہوئے موجودہ پوزیشن برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران لبنانی حکام نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کی واپسی کا مطالبہ دہرایا، تاہم اسرائیلی نمائندوں نے اس مطالبے کو قبول کرنے سے گریز کیا اور اپنی سکیورٹی شرائط پر زور دیا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔ اسرائیلی حکام نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ انہیں حزب اللہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور متعلقہ علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں دونوں ممالک کے فوجی نمائندے براہِ راست ایک دوسرے کے سامنے نہیں بیٹھے، بلکہ امریکی ثالثوں کے ذریعے پیغامات اور تجاویز کا تبادلہ کیا جاتا رہا۔ اس دوران لبنانی وفد نے اسرائیلی فوجی اصطلاحات اور بعض سکیورٹی نکات پر مزید وضاحت طلب کی، جن میں “محدود خطرہ” اور “خطرات کے جواب” جیسے تصورات بھی شامل تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی حکام نے مذاکرات کے دوران ایسے نقشے بھی پیش کیے جن میں مبینہ طور پر حزب اللہ سے منسوب ڈرون تنصیبات اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اسرائیل نے لبنانی فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مقامات کے خلاف کارروائی کرے، تاہم لبنانی حکام نے اسے مذاکرات کے لیے پیشگی شرط کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جنوبی لبنان کی صورتحال بدستور پیچیدہ ہے اور دونوں فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ امریکی ثالثی کی کوششوں کے باوجود ابھی تک کسی ایسے فارمولے پر اتفاق نہیں ہو سکا جو فوجی انخلا، سرحدی سکیورٹی اور حزب اللہ کے کردار سے متعلق متنازع امور کو بیک وقت حل کر سکے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ مذاکرات کا آئندہ مرحلہ خطے کی سکیورٹی صورتحال کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ مؤقف کو دیکھتے ہوئے فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔