برطانیہ ان دنوں شدید گرمی کی غیر معمولی لہر اور طویل خشک موسم کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی کا نظام بری طرح متاثر ہو گیا ہے اور شہریوں کو روزمرہ ضروریات کے لیے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ کے متعدد حصوں میں پانی کی کمی اور کم دباؤ کی شکایات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کی بنیادی وجہ پرانا اور کمزور ترسیلی نظام اور پانی کی تقسیم کا بوسیدہ بنیادی ڈھانچہ ہے، جو موجودہ طلب کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔
جنوب مشرقی انگلینڈ میں حالیہ غیر معمولی گرمی کے دوران صورتحال مزید سنگین ہو گئی، جہاں ہزاروں گھرانے یا تو مکمل طور پر پانی سے محروم رہے یا انہیں انتہائی کم دباؤ کے ساتھ پانی فراہم کیا گیا۔ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 20 ہزار سے زائد بتائی جا رہی ہے، جن میں ساحلی قصبے وائٹ سٹیبل کے تقریباً 8 ہزار رہائشی بھی شامل ہیں، جو سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے مطابق شہریوں کو ہنگامی طور پر پانی کے حصول کے لیے قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑا، جبکہ پانی کی فراہمی کو معمول پر لانے کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔ تاہم صورت حال مکمل طور پر قابو میں آنے میں وقت لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کی ماحولیاتی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک اس وقت شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہے، جس کے نتیجے میں پانی کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی مارچ اور اپریل کے دوران معمول سے کم بارشوں نے آبی ذخائر پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پانی کی ترسیل کی نجی کمپنیوں کی جانب سے بنیادی ڈھانچے میں بروقت سرمایہ کاری نہ کرنے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق طویل عرصے سے نظر انداز کیے گئے نظامی مسائل اب شدت اختیار کر چکے ہیں۔
اسی دوران متاثرہ علاقوں خصوصاً وائٹ سٹیبل میں سیاحتی سرگرمیوں میں اضافے اور اسکولوں کی تعطیلات کے باعث آنے والے افراد کی کثرت نے بھی پانی کی طلب میں اضافہ کر دیا ہے، جس نے مقامی نظام پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے اور بحران کو گہرا کر دیا ہے۔