ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جاپانی آبادی مسلسل گھٹنے لگی، تعداد 12 کروڑ 30 لاکھ سے کم ہوگئی

جاپان کو آبادی کے حوالے سے ایک بار پھر تشویشناک صورتِ حال کا سامنا ہے، جہاں نئی مردم شماری کے ابتدائی اعداد و شمار نے ملک میں آبادی کے مسلسل سکڑتے ہوئے حجم کی نشاندہی کر دی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جاپان کی مجموعی آبادی گھٹ کر 12 کروڑ 30 لاکھ سے بھی کم سطح پر آ گئی ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران آبادی میں آنے والی نمایاں ترین کمیوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔

جاپان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ابتدائی مردم شماری رپورٹ کے مطابق ملک کی آبادی اب 12 کروڑ 30 لاکھ 49 ہزار 524 افراد پر مشتمل ہے۔ اکتوبر 2020 میں ہونے والی گزشتہ مردم شماری کے مقابلے میں یہ تعداد 30 لاکھ سے زائد کم ہوئی ہے، جو تقریباً 2.5 فیصد کمی کے برابر بنتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جاپان میں آبادی میں کمی کا یہ سلسلہ کسی عارضی رجحان کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل پانچویں سال بھی یہی صورتحال برقرار رہی ہے۔ گزشتہ 5 برسوں کے دوران ملک کی آبادی میں 30 لاکھ سے زیادہ افراد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس نے حکومتی اور سماجی حلقوں میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ماہرین آبادیات کا کہنا ہے کہ جاپان اس وقت ایک پیچیدہ سماجی اور آبادیاتی چیلنج سے گزر رہا ہے۔ شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی، نوجوان نسل میں شادی کے رجحان کا کم ہونا، چھوٹے خاندانوں کو ترجیح دینا اور عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بحران کی بنیادی وجوہات سمجھی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں بزرگ شہریوں کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ شمار کیا جاتا ہے۔

اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں آبادی کی موجودہ شرح کئی دہائیوں کی کم ترین سطح تک پہنچ چکی ہے، جس کے ممکنہ اثرات مستقبل میں معیشت، افرادی قوت، سماجی بہبود اور قومی ترقی کے مختلف شعبوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

آبادی میں کمی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے جاپانی حکومت کی جانب سے گزشتہ برسوں میں مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کے لیے مالی سہولتیں، والدین کے لیے معاونت کے منصوبے، بچوں کی نگہداشت کی بہتر خدمات اور خاندانی فلاح کے متعدد پروگرام شامل ہیں، تاہم اب تک یہ کوششیں مطلوبہ نتائج دینے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر آبادی میں کمی کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں جاپان کو نہ صرف معاشی سرگرمیوں کے لیے افرادی قوت کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ سماجی ڈھانچے اور فلاحی نظام پر بھی اضافی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں