سری نگر/پی ڈی پی رہنما اور پلوامہ کے رکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے جموں و کشمیر حکومت سے ریزرویشن پالیسی سے متعلق کابینہ ذیلی کمیٹی کی رپورٹ عوام کے سامنے لانے اور موجودہ ریزرویشن نظام کو معقول بنانے کے لیے عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے پرا نے کہا کہ حکومت نے ریزرویشن پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے چھ ماہ کا وقت مانگا تھا، تاہم تقریباً دو سال گزرنے کے باوجود رپورٹ کو عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ہم چاہتے ہیں کہ وزیرِ اعلیٰ، حکومت اور کابینہ کھل کر سامنے آئیں اور رپورٹ عوام کے سامنے رکھیں۔ ہمیں بتایا جائے کہ حکومت نے کیا سفارشات بھیجی ہیں۔پر ہ نے مطالبہ کیا کہ ریزرویشن کو آبادی کے تناسب سے ترتیب دیا جائے اور اوپن میرٹ امیدواروں کو ان کا جائز حصہ فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریزرویشن کا تعین پرو ریٹا یعنی آبادی کے تناسب کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں کشمیری زبان بولنے والی آبادی کی سرکاری اداروں میں نمائندگی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ پرا نے کہا کہ کشمیر میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ موجودہ نظام کے باعث کشمیری بولنے والی آبادی سرکاری نظام میں پیچھے رہ رہی ہے۔
پرہ نے کہا کہ کشمیریوں کی نمائندگی کا مسئلہ تاریخی طور پر خطے کی سیاسی تحریک سے بھی جڑا رہا ہے اور حکومت کو ریزرویشن کے معاملے کو معمولی مسئلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ حکومت ریزرویشن سے متعلق رپورٹ کو عام کرے اور پالیسی کو معقول بنانے کے لیے باقاعدہ عمل شروع کرے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ اس وقت جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو درپیش اہم ترین مسائل میں شامل ہے۔حکومت نے اس معاملے پر پہلے تین رکنی کابینہ ذیلی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے جون 2025 میں اپنی رپورٹ تیار کی تھی؛ رپورٹ بعد ازاں حکومت اور کابینہ کے غور و خوض کے مرحلے میں رہی۔