مہاراشٹر میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے دوران شیوسینا (یو بی ٹی) کی رہنما پرینکا چترویدی نے انتخابی افسران پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ پرینکا چترویدی نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزات جمع کرانے کے بعد بھی ان کے خاندان کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ایس آئی آر عمل کے دوران تمام ضروری دستاویزات جمع کرانے کے بعد میرے شوہر، بیٹے اور میرا نام ابتدائی ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ اب ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم تینوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں اور ممبئی کی حتمی ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے ہمیں مزید دستاویزات جمع کرانے ہوں گے اور خود جا کر پیش ہونا ہوگا۔‘‘ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ’’چلیے ملتے ہیں ممبئی کی الیکٹورل آفس کی قطار میں۔‘‘
اس کے علاوہ ایس آئی آر عمل میں بے ضابطگیوں پر 2 الیکشن کمشنرز کے اعتراض سے متعلق خبر پر بھی پرینکا چترویدی نے الیکشن کمیشن پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی 3 الیکشن کمشنرز میں سے 2 ہیں، جبکہ تیسرے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ہیں۔ گزشتہ 10 ماہ کے دوران ان دونوں کمشنرز نے ایس آئی آر کے نفاذ کے دوران کمیشن کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر 14 بار باضابطہ طور پر اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ووٹرس کے نام شامل کرنے، ہٹانے اور بحال کرنے کے بارے میں انہیں اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔ الیکشن کمشنرز نے نئے ووٹرس سے متعلق اقدامات کو ’غیر مجاز اور غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ووٹر ڈیٹا بیس تک رسائی کو دہلی میں مرکزی سطح پر مرکوز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ زمینی سطح پر کام کرنے والے افسران کو نظرانداز کیا گیا ہے۔‘‘
ایک دیگر ’ایکس‘ پوسٹ میں پرینکا چترویدی نے کہا کہ ’’اب چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ اس انکشاف نے الیکشن کمیشن کے کام کاج میں موجود مسائل کو سب کے سامنے لا دیا ہے۔ یہ کوئی ایسی جاگیر نہیں ہے جسے چیف الیکشن کمشنر اپنی مرضی سے چلائیں، بلکہ یہ قواعد پر مبنی ایک قانونی ادارہ ہے، جس کا مقصد انتخابی فہرستوں اور انتخابات کی غیر جانبداری برقرار رکھنا ہے۔ باقی 2 الیکشن کمشنرز نے جو بھی اعتراضات اٹھائے ہیں، ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہو رہا تھا۔‘‘