کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوال اٹھائے ہیں۔ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ دو الیکشن کمشنروں، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے گزشتہ 10 ماہ میں کمیشن کے فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ کے مطابق اعتراضات میں فارم 6، ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج اور انتخابی ڈیٹا بیس کے انتظام جیسے معاملات شامل تھے۔
کھڑگے نے کہا کہ ایس آئی آر کے دوران 31 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی مسودہ فہرستوں سے 13.8 کروڑ نام نکالے گئے۔ انہوں نے راجیہ سبھا کے چیئرمین سے 24 اپریل کو 73 اپوزیشن ارکان کی جانب سے گیانیش کمار کو ہٹانے کے لیے دیے گئے زیرالتوا نوٹس پر فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سخت تنقید کی ہے۔ ایکس پر اپنی پوسٹ میں رمیش نے الزام لگایا کہ گیانیش کمار نے مرکزی حکومت کے مفادات کے مطابق کام کیا اور کہا کہ وہ اب اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا ’انتظامی اور اخلاقی حق‘ کھو چکے ہیں۔ رمیش نے یاد دلایا کہ 24 اپریل کو 73 اپوزیشن ارکان نے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے لیے نوٹس دیا تھا۔
جے رام رمیش نے سپریم کورٹ کے اس معاملے کا بھی حوالہ دیا جس میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو چیلنج کیا گیا ہے۔ دو رکنی بنچ نے بڑی بنچ کو معاملہ بھیجنے کے سوال پر الگ الگ رائے دی، جس کے بعد معاملہ آئینی بنچ کے سامنے رکھنے کا راستہ اختیار کیا گیا۔
الیکشن کمیشن سے متعلق ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ سرخیوں میں ہے، اور کانگریس لیڈران لگاتار چیف الیکشن کمشنر کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ آج ایک پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے سینئر لیڈر ایڈووکیٹ راجندرپال گوتم نے کہا کہ ’’یہ صرف انتخابی جنگ نہیں ہے، ملک کو بچانے کی جنگ ہے۔ جس الیکشن کمیشن پر غیر جانبدارانہ انتخاب کروانے کی ذمہ داری ہے، وہاں عوام کا حق رائے دہی چوری کیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار باقی الیکشن کمشنرز کو درکنار کر ایک پارٹی کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے الیکشن کمیشن سے متعلق ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ پر کسی بھی طرح کی حیرانی ظاہر نہیں کی۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے بھائی راہل گاندھی جی مسلسل الیکشن کمیشن کے ذریعہ کی جا رہی جانبداری اور ناانصافی کے معاملے کو اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کئی مسائل کو سامنے لایا ہے اور اب خود الیکشن کمشنرز نے ان تشویشات سے گیانیش کمار جی کو آگاہ کیا ہے۔‘‘ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’جو کچھ بھی سامنے آیا ہے، وہ جمہوریت کے لیے انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ اگر انتخابات ہی نہیں ہوں گے تو پھر جمہوریت کہاں ہوگی؟‘‘
پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’اگر انتخابات منصفانہ نہیں ہیں اور کسی بھی طرح ان میں دھاندلی کی جا رہی ہے، اور الیکشن کمیشن اس میں مدد کر رہا ہے، اور اگر خود الیکشن کمشنرز نہ صرف اس سے واقف ہیں بلکہ اسے ہونے دے رہے ہیں، تو یہ جمہوریت پر انتہائی سنگین حملہ ہے۔‘‘ میڈیا اہلکاروں سے وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’یہ ملک کے ساتھ غداری ہے۔ اس کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے اور ایک غیر جانبدار ادارے کے ذریعہ اس کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہیے۔‘‘
ایس آئی آر معاملہ پر ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ نے سیاسی ہلچل بڑھا دی ہے۔ کانگریس اس معاملہ میں الیکشن کمیشن، خصوصاً چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر حملہ آور دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر ابھشیک منو سنگھوی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’1995 میں سپریم کورٹ نے صاف کر دیا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک اکثریت والا ادارہ ہے۔ بہت وقت پہلے ایک قانونی سوال اٹھا تھا کہ کیا الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سب سے بالاتر ہے اور الیکشن کمشنرز برابر کا حق نہیں رکھتے؟ اس کا واضح جواب دیا گیا تھا کہ سبھی الیکشن کمشنرز برابر ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی)، الیکشن کمشنرز کے اوپر نہیں ہیں، بلکہ برابر والوں میں اول ہیں۔‘‘ اس تشریح کے بعد انھوں نے میڈیا کے سامنے کہا کہ ’’ایسے میں آج کے انکشاف سے واضح ہوتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے صرف ملک کے آئینی اقدار پر حملہ نہیں کیا، انھوں نے الیکشن کمیشن کر یرغمال بنا کر اپنے ساتھیوں کو بھی گمراہ کیا ہے۔‘‘
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے انتخابی کمیشن سے متعلق ’انڈین ایکسپریس‘ کے انکشاف پر اپنا سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر انھوں نے ایک پوسٹ جاری کیا ہے جس میں ’ووٹ چوری‘ کو ہندوستانی عوام کے خلاف جرم اور آئین پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی، آر ایس ایس اور انتخابی کمیشن نے مل کر اسے انجام دیا ہے۔ تینوں نے ملک سے غداری کا کام کیا ہے۔