پنچکولہ: ہریانہ کے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک اور اے یو اسمال فائنانس بینک سے متعلق گھوٹالے کے معاملے میں سی بی آئی کی چارج شیٹ میں چھ آئی اے ایس افسران کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ چارج شیٹ کے مطابق افسران پر سرکاری رقم کو نجی بینکوں میں منتقل کرانے، بینکوں کے انتخاب اور ایف ڈی میں سرمایہ کاری کے مقررہ اصولوں کو نظرانداز کرنے، مالیاتی ضابطوں کی خلاف ورزی، دستاویزات میں ردوبدل، شواہد چھپانے اور رشوت یا دیگر غیر مناسب فوائد حاصل کرنے کے الزامات ہیں۔
سی بی آئی نے جن چھ آئی اے ایس افسران کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے، ان میں ساکیت کمار، آر کے سنگھ (رام کمار سنگھ)، پنکج اگروال، پردیپ کمار، وینیت گرگ اور محمد شائن شامل ہیں۔ ان میں سے تین افسران گرفتاری کے بعد عدالتی حراست میں ہیں۔
چارج شیٹ کے مطابق، اسکول تعلیم محکمہ کے اس وقت کے کمشنر و سکریٹری اور بعد میں زراعت محکمہ کے پرنسپل سکریٹری رہے پنکج اگروال پر ایک نجی بینک افسر سے مبینہ طور پر غیر مناسب فوائد حاصل کرنے کا الزام ہے۔ سی بی آئی کا دعویٰ ہے کہ بینک افسر رِبھَو رِشی نے اگروال کے لیے زیراکپور کے ایک ہوٹل میں نومبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان چار بار رقص کی محفلوں کا انتظام کیا، جن کے اخراجات بھی اسی نے اٹھائے۔ چارج شیٹ میں ہوٹلوں میں خواتین کے انتظام اور ادائیگیوں کا بھی ذکر ہے۔
ساکیت کمار پر الزام ہے کہ انہوں نے بینک اکاؤنٹس کھولنے کی تجویز پر صرف ’دیکھ لیا‘ لکھ کر منظوری دی، حالانکہ بینک کے انتخاب کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔ سی بی آئی کے مطابق، دسمبر 2025 میں ایچ پی جی سی ایل پنشن فنڈ ٹرسٹ سے 25 کروڑ روپے نکال کر آئی ڈی ایف سی بینک میں منتقل کرنے کی مبینہ سازش بھی کی گئی۔
ہریانہ ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ کے سابق چیئرمین وینیت گرگ کے حوالے سے بھی سرمایہ کاری میں بے ضابطگیوں کا ذکر ہے۔ چارج شیٹ کے مطابق ایک موقع پر 25-25 کروڑ روپے اے یو اسمال فائنانس بینک اور آئی ڈی ایف سی میں لگانے کی سفارش کو تبدیل کرکے پوری 50 کروڑ روپے کی رقم آئی ڈی ایف سی میں لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سی بی آئی نے گرگ کے گھر سونے کے سکوں کی مبینہ ترسیل کی بھی تحقیقات کی ہے۔
پنچکولہ میونسپل کارپوریشن کے سابق کمشنر آر کے سنگھ کے بارے میں چارج شیٹ میں الزام ہے کہ ان کے گھر 50 لاکھ روپے اور ان کے بیٹے کو دہلی میں دو کروڑ روپے دیے گئے۔ ان پر ایف ڈی سرمایہ کاری کے لیے مختلف بینکوں کی شرح سود کے باوجود آئی ڈی ایف سی بینک کو ترجیح دینے کا بھی الزام ہے۔
ایچ پی جی سی ایل کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر اور چیئرمین محمد شائن پر بھی آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کو سرکاری رقم کی سرمایہ کاری میں فائدہ پہنچانے کا الزام ہے۔ سی بی آئی کے مطابق، ان کے دور میں 50 کروڑ روپے بینک میں جمع کرائے گئے اور بعض دیگر مالیاتی فیصلے بھی کیے گئے۔
چارج شیٹ میں ہریانہ آلودگی کنٹرول بورڈ کے سابق ممبر سکریٹری پردیپ کمار پر بھی آئی ڈی ایف سی بینک کو فائدہ پہنچانے کے لیے سرمایہ کاری کے اعداد و شمار میں مبینہ تبدیلی کا الزام ہے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ایک معاملے میں اے یو اسمال فائنانس بینک کی 8.45 فیصد شرح سود کو 8.25 فیصد ظاہر کیا گیا، جس سے آئی ڈی ایف سی کی شرح سود نسبتاً زیادہ دکھائی دی۔