ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مہاراشٹر: باندھوں میں گھٹا پانی، ریاستی حکومت نے 16 اکتوبر سے 10 فیصد پانی کی کٹوتی کا لیا فیصلہ

مہاراشٹر میں پانی کی قلت کے پیش نظر ریاستی حکومت نے تیاری شروع کر دی ہے۔ کم بارش اور ال نینو کے اثر کی تشویش کے درمیان ریاستی حکومت نے 16 اکتوبر سے کم از کم 10 فیصد پانی کی کٹوتی کا فیصلہ لیا ہے۔ یہ کٹوتی میونسپل کارپوریشن، میونسپلٹی اور گرام پنچایتوں سمیت تمام مقامی اداروں میں نافذ ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد آنے والے مہینوں کے لیے پانی بچانا اور لوگوں کے لیے پانی محفوظ رکھنا ہے۔

ریاستی وزیر برائے آبی وسائل گریش مہاجن کے مطابق رواں سال مانسون کے بعد مہاراشٹر کے باندھوں میں اوسطاً 75.25 فیصد پانی بچا ہے۔ گزشتہ سال اسی وقت یہ اعداد و شمار 88.82 فیصد تھا۔ یعنی گزشتہ سال کے مقابلے میں اس بار باندھوں میں کم پانی ہے۔ ریاست کے 265 تعلقوں میں خشک سالی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایسے میں حکومت نے ابھی سے پانی بچانے اور اس کے استعمال کو کم کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

حکومت نے باندھوں اور آبی ذخائر میں موجود پانی کے استعمال کا منصوبہ 31 اگست 2027 تک کے لیے بنایا ہے۔ اس میں سب سے پہلے لوگوں کے پینے کے پانی کی ضرورت پوری کی جائے گی۔ پانی کا حساب لگاتے وقت گرمی میں پانی کے بخارات بن کر اڑنے، باندھوں میں گاد اور بغیر اجازت پانی نکالنے جیسی چیزوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ ہر باندھ میں 10 فیصد اضافی پانی ایمرجنسی حالت کے لیے بچا کر رکھا جائے گا۔ اگر پانی کی کمی بہت زیادہ ہوتی ہے تو تکنیکی جانچ کے بعد باندھ کے سب سے نیچے جمع پانی یعنی ’ڈیڈ اسٹوریج‘ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

واضح رہے کہ 16 اکتوبر سے پانی کی کٹوتی نافذ ہونے کے ساتھ مقامی اداروں کو پانی کی بربادی روکنے کے لیے بھی کام کرنا ہوگا۔ پائپ لائن سے پانی لیک ہونے کے مسائل کو دور کرنے کے لیے مہم چلائی جائے گی۔ حکومت نے سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ یعنی ایس ٹی پی کو پوری صلاحیت سے چلانے کو کہا ہے۔ یہاں گندہ پانی صاف کیا جاتا ہے۔ اس پانی کا استعمال باغبانی، تعمیر اور صفائی جیسے کاموں میں کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ان کاموں کے لیے صاف پانی کم استعمال ہوگا۔

حکومت نے صنعتوں سے بھی پانی بچانے کو کہا ہے۔ صنعتوں کو اپنے استعمال کیے گئے پانی کا کم از کم 30 فیصد پانی دوبارہ استعمال یا ری سائیکل کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ باندھوں، ندیوں اور نہروں سے بغیر اجازت پانی نکالنے پر بھی کارروائی کی جائے گی۔ حکومت نے متعلقہ شعبوں کو ایسے معاملات پر نظر رکھنے کی ہدایات دی ہیں۔ بغیر اجازت پانی نکالنے کے لیے استعمال ہونے والے پمپ اور دوسرے سامان کو ضبط بھی کیا جا سکتا ہے۔

پانی کی کمی کا اثر زراعت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ حکومت کے منصوبے کے مطابق آبپاشی کے لیے پانی دینے سے قبل پینے کے پانی، جانوروں اور چارے کی ضرورت پوری کی جائے گی۔ ربیع کی اناج والی فصلوں اور چارے والی فصلوں کو پہلے پانی دیا جائے گا۔ اس کے بعد دوسری ربیع کی فصلوں کی ضرورت پوری کی جائے گی۔ بارہ ماسی فصلوں کو پانی تبھی ملے گا، جب ضروری ضروریات کو پورا کرنے کے بعد پانی بچ جائے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں