ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اپوزیشن مظاہرہ LIVE: راہل گاندھی کی بس سپریم کورٹ کی طرف گامزن، مختلف انداز کا پوسٹر لے کر کئی لوگ پیدل چل رہے

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ کئی اپوزیشن لیڈران کو لے کر بس سپریم کورٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بس کے آگے اور پیچھے کئی لوگ پیدل بھی چل رہے ہیں، جن کے ہاتھوں میں طرح طرح کے پوسٹرس اور بینرس ہیں۔ ان پوسٹرس اور بینرس پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور پی ایم مودی کے خلاف نعرے لکھے ہوئے ہیں۔

انڈیا بلاک کے ’سپریم کورٹ مارچ‘ کے لیے باراکھمبا روڈ پر لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا ہے۔ راہل گاندھی کی قیادت میں لوگوں کی یہ بھیڑ سپریم کورٹ کی طرف قدم بھی بڑھا چکی ہے۔ کانگریس نے باراکھمبا روڈ پر جمع بھیڑ کی ایک ویڈیو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مختلف پارٹیوں کے لیڈران اور طلبا گیانیش کمار کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے کیپشن لگایا ہے ’’مودی-گیانو کے خلاف ہندوستان امنڈ آیا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری تحریک کو ’شیو کا تانڈو‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے تحریک سے متعلق حکمت عملی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کوئی منصوبہ بند پروگرام نہیں، بلکہ بھگوان شیو کے تانڈو اور بارات کی طرح ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی بہن پرینکا گاندھی نے ان سے کہا تھا کہ منصوبہ تیار کرنا چاہیے، لیکن انھوں نے سمجھایا کہ وہ بات کو سمجھ نہیں رہی ہیں۔ راہل نے کہا کہ ’’یہ تانڈو ہے، بھگوان شیو کا ڈانس ہے۔ اس میں کوئی منصوبہ شامل نہیں ہے۔ آج ہم سپریم کورٹ جا رہے ہیں، کل کچھ اور ہوگا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ شیوجی کی بارات کی طرح ہے اور اس میں جو کوئی شامل ہونا چاہتا ہے، اس کا استقبال ہے۔

راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے 200 افسران ان کے رابطے میں ہیں۔ انھوں مودی حکومت کو چیلنج پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ای ڈی، سی بی آئی، وزارت خارجہ کے اندر سے سبھی ہمیں جانکاریاں دے رہے ہیں۔ آپ کو جو کرنا ہے کیجیے، سچائی ہمارے ساتھ ہے۔‘‘

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ اس دوران انھوں نے حکومت کے سامنے کچھ سوال رکھے ہیں۔ ایک اہم سوال انھوں نے یہ کیا ہے کہ ’’آخر دہلی قید میں کیوں ہے؟‘‘ راہل گاندھی نے کہا کہ لوگوں کو دہلی آنے سے روکا جا رہا ہے، ٹرین اور بسوں کو روکا جا رہا ہے۔ دہلی کو قلعہ بنا دیا گیا ہے اور سبھی جگہ پولیس تعینات ہے۔

انڈیا بلاک کے مجوزہ ’سپریم کورٹ مارچ‘ سے قبل لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی تھوڑی دیر میں پریس کانفرنس کرنے والے ہیں۔ کانگریس کی طرف سے جانکاری دی گئی ہے کہ پریس کانفرنس 11.30 بجے ہونی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس پریس کانفرنس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مظاہرہ سے متعلق کچھ اہم بات کہی جائے گی۔

مجوزہ ’سپریم کورٹ مارچ‘ میں اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اور مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سمیت کئی سرکردہ لیڈران شرکت کرنے والے ہیں۔ یہ مارچ باراکھمبا روڈ سے 1.30 بجے سپریم کورٹ کی طرف آگے بڑھے گا۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نکالے جا رہے اس مارچ کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ خاص طور سے باراکھمبا روڈ اور منڈی ہاؤس کے قریب سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ یہاں دہلی پولیس کے ساتھ ساتھ ریپڈ ایکشن فورس اور سی آر پی ایف کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔ مجوزہ مارچ کو دیکھتے ہوئے ان علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی موجودگی بڑھائی گئی ہے۔

انڈیا بلاک کے لیڈران نے آج (12 اکتوبر) سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے، جس کے پیش نظر سخت سیکورٹی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ حالانکہ چیف جسٹس سوریہ کانت نے انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کی اس درخواست کو نامنظور کر دیا ہے، جس میں ان سے ملاقات کے لیے وقت مانگا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق آ رہی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ اپوزیشن جن ایشوز کو اٹھانا چاہتا ہے، وہ پہلے سے ہی سپریم کورٹ میں زیر غور ہیں۔ اس لیے چیف جسٹس آف انڈیا نے ملاقات کی درخواست کو قبول نہیں کیا۔ اس کے باوجود کانگریس نے لوگوں سے ’دہلی چلو‘ مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔

انڈیا بلاک کے ’سپریم کورٹ‘ مارچ کو دیکھتے ہوئے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن نے پیر کی صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک 6 میٹرو اسٹیشنوں کے انٹری اور ایگزٹ گیٹ بند کر دیے ہیں۔ ڈی ایم آر سی کے مطابق ان اسٹیشنوں میں پٹیل چوک، جن پتھ، راجیو چوک، منڈی ہاؤس، سنٹرل سکریٹریٹ اور باراکھمبا روڈ شامل ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں