ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

’ووٹ چوری سچائی ہے، کمر توڑ مہنگائی ہے‘، کانگریس نے مودی حکومت کو 2 محاذ پر ایک ساتھ بنایا نشانہ

ایک طرف کانگریس ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف زوردار تحریک چلا رہی ہے، دوسری طرف مودی حکومت کو مہنگائی کے محاذ پر بھی گھیر رہی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے آج ان دونوں محاذ پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ کی شروعات ہی اس طرح کی ہے ’’ووٹ چوری سچائی ہے، کمر توڑ مہنگائی ہے۔‘‘

اس سوشل میڈیا پوسٹ میں مستقل بڑھ رہی مہنگائی پر خاص توجہ دی گئی ہے اور ایک اخبار کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’’سرخی بتاتی ہے ستمبر ماہ میں مہنگائی 5.54 فیصد پہنچ گئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خوردہ مہنگائی 7.74 فیصد ہو گئی ہے۔ یعنی کھانے کی تقریباً ہر چیز کی قیمت حد پار کر چکی ہے۔ مثلاً پیاز 108 فیصد مہنگا، لہسن 55 فیصد، ادرک 63 فیصد اور نیمبو 36 فیصد مہنگا ہو گیا ہے۔‘‘ اس میں آگے لکھا گیا ہے کہ ’’سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خوردہ مہنگائی مارچ میں 3.40 فیصد سے لگاتار بڑھتے ہوئے ستمبر میں 5.54 فیصد پر پہنچ گئی، جو 23 ماہ کی اعلیٰ سطح ہے۔‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا اثر صرف تھالی تک محدود نہیں ہے۔ ٹرانسپورٹیشن، تعلیم، کپڑے و جوتے اور گھریلو سامان سمیت سبھی ضروری سامان مہنگے ہو رہے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’غریب کی تھالی سے نوالہ، متوسط طبقہ کی جیب سے بچت غائب ہو رہی ہے اور قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، لیکن وزیر اعظم جی تکبر میں ڈوبے ہیں، عوام کی پریشانیوں پر توجہ نہیں دے رہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ ’’اچھے دن کا وعدہ کر کے اقتدار میں آنے والی حکومت ووٹ چوری کے ساتھ بچت چوری بھی کر رہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں :

مودی حکومت کے خلاف جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’جب ووٹ چور حکومت کو عوام کی ناراضگی اور ووٹ کی کمی کا خوف ہی نہیں ہے تو وہ عوام کی پروا کیوں کرے گی؟ اب یہی ہو رہا ہے۔ مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، ووٹ چوری پر عوام کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے، لیکن وزیر اعظم جی ’مونی بابا‘ (خاموش بابا) بن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’اب ان کے لیے جھولا اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں