اپوزیشن اور نوجوانوں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد اب ’سنیُکت کسان مورچہ‘ (ایس کے ایم) نے بھی ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ ہریانہ کے کرنال میں منعقدہ ’راشٹریہ پریشد‘ کی میٹنگ میں ایس کے ایم نے 23 اکتوبر کو ایس آئی آر کے خلاف سڑکوں پر اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میٹنگ میں 23 اکتوبر کو ملک بھر میں ضلع اور تحصیل مراکز پر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی۔ میٹنگ میں کسانوں کی تحریک کو تیز کرنے اور نئی دہلی سمیت پورے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ ایس کے ایم کی ریاستی اکائیاں احتجاج کے مقامات کا فیصلہ کریں گی۔ ان احتجاجی مظاہروں میں لاکھوں کسانوں کی شرکت متوقع ہے۔
ایس کے ایم نے نئی دہلی میں دہلی پولیس اور آر ایس ایس-بی جے پی کے شرپسند عناصر کی جانب سے نوجوان طالبات سمیت مظاہرین پر بے رحمانہ کارروائی اور ہراسانی کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ایس کے ایم نے کہا کہ اگر مودی حکومت مظاہرین پر حملے جاری رکھتی ہے تو کسان خصوصاً طلباء اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے پورے ملک میں آگے آئیں گے۔ ایس کے ایم نے کہا ہے کہ احتجاج کرنے کا حق ایک بنیادی حق ہے، اور پرامن مظاہرین پر حملہ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ میٹنگ میں سپریم کورٹ سمیت عدلیہ پر تنقید کی گئی ہے کہ اس نے راجدھانی میں بڑے پیمانے پر ہونے والے جرائم کا ازخود نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی فوری کارروائی کی، جس کی وجہ سے نظم و نسق درہم برہم ہو گیا۔
ایس کے ایم نے پورے ہندوستان کے کسانوں اور عوام سے جمہوریت کے تحفظ کی جد و جہد میں متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ ایس کے ایم نے غیر قانونی ایس آئی آر کو فوری طور پر منسوخ کرنے، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے، اور ووٹنگ کے حق سے محروم کیے گئے تمام 13.41 کروڑ شہریوں کے حق رائے دہی کو بحال کرنے اور 2023 کے ایکٹ میں ترمیم کرکے سلیکشن پینل میں کابینہ وزیر کے بجائے ہندوستان کے چیف جسٹس کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔26 نومبر کو دہلی بارڈر پر شروع ہونے والی تاریخی کسان تحریک کی چھٹی برسی ہے۔ ایس کے ایم نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ طویل جد و جہد کے لیے تیار رہیں اور اپنی تمام 7 اہم مانگیں پوری ہونے تک کئی دنوں تک جاری رہنے والے احتجاجی مظاہرے کریں۔
یہ بھی پڑھیں :
ان مطالبات میں ایم ایس پی@سی2پلس50 فیصد قانون بنانا، کوئی ایف ٹی اے (آزاد تجارتی معاہدہ) نہیں، قرض معافی اور خودکشی کرنے والے کسانوں کے اہل خانہ کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینا، پنشن اور بیمہ فراہم کرنا، بجلی کی نجکاری نہ کرنا، سیڈ بل 2025 کو منسوخ کرنا، کسانوں اور قبائلیوں کے زمینی حقوق کا تحفظ کرنا، 4 لیبر کوڈ نافذ نہ کرنا اور منریگا کو بحال کرنا شامل ہیں۔ میٹنگ کی صدارت 7 رکنی پریزیڈیم نے کی، جس میں اشوک دھولے، جوگیندر سنگھ اگراہاں، راکیش ٹکیت، راجن کشیرساگر، ڈاکٹر سنیلم، جگتار سنگھ باجوا اور جوگیندر سنگھ نین شامل تھے۔ رتن سنگھ مان نے استقبالیہ کلمات پیش کیے، جبکہ پی کرشن پرساد نے ایجنڈا پیش کیا۔ بحث میں 39 ارکان نے حصہ لیا۔ اس میٹنگ میں17 ریاستوں سے 142 افراد نے شرکت کی۔