ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا بلاک کی عرضی میں موجود خامیاں ہوئیں دور، سماعت کا راستہ ہموار

چیف الیکشن کمشنر اور ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ میں راہل گاندھی و انڈیا بلاک کے لیدران کی عرضی اب رسمی طور پر درج کر لی گئی ہے۔ رجسٹری کی طرف سے بتائی گئی تکنیکی خامیاں ٹھیک ہونے کے بعد عرضی کو رِٹ پٹیشن نمبر دے دیا گیا ہے۔ فی الحال کورٹ کے سسٹم میں سماعت کی ممکنہ تاریخ 26 اکتوبر دکھائی دے رہی ہے، لیکن حتمی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں ہوا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دسہرہ کی چھٹیوں کے بعد 26 اکتوبر کو سپریم کورٹ کا کام دوبارہ شروع ہوگا۔ حالانکہ کورٹ 16 اکتوبر تک کھلا ہے، یعنی اگر عرضی دہندگان کے وکلا کوشش کرتے ہیں تو سماعت رواں ہفتہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس درمیان کورٹ کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ عرضی میں 2 مزید عرضی دہندگان ٹی تھروموالاون اور سجاد احمد کچلو کے نام بھی جوڑے گئے ہیں۔ یعنی اب مجموعی طور پر 13 عرضی دہندگان ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل راہل گاندھی کے ساتھ 10 اپوزیشن لیڈران عرضی دہندہ تھے۔

واضح رہے کہ 12 اکتوبر کو اپوزیشن لیڈران کی یہ عرضی داخل ہوئی تھی۔ بعد ازاں رجسٹری نے 14 طرح کی خامیاں بتائی تھیں۔ بتایا گیا کہ عرضی میں کچھ مقامات پر ناموں کی غلطی تھی اور کہیں پر پرانے فیصلوں کی کاپی نہیں لگائی گئی تھی۔ راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کو چھوڑ کر باقی 9 عرضی دہندگان کی طرف سے وکالت نامہ بھی نہیں آیا تھا۔ ساتھ ہی ملکارجن کھڑگے کے شناختی کارڈ کی کاپی دھندلی بھی بتائی گئی۔ ایسی بھی خبریں سامنے آئیں جن میں بتایا گیا کہ کورٹ فیس جو جمع کی گئی تھی، اس میں 220 روپے کم تھے۔

دراصل کورٹ کے مقرر کردہ نظام کے مطابق تکنیکی خامیوں کو ٹھیک کرنے کے بعد ہی عرضی ججوں کے سامنے سماعت کے لیے رکھی جا سکتی ہے۔ 13 اکتوبر کو ان غلطیوں میں اصلاح کر دیا گیا، اور اب عرضی کو رسمی طور سے درج کر لیا گیا ہے۔ اس طرح عرضی پر سماعت کا راستہ بھی ہموار ہو گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈران کی اس عرضی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کو نافذ کرنے کے طریقے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ عرضی میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے دوسرے الیکشن کمشنرز کی جانکاری، حمایت یا منظوری کے بغیر ایکطرفہ فیصلے لیے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں