ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

’ماک پارلیمنٹ‘ میں گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کی تجویز، راہل گاندھی نے دی منظوری!

خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے خلاف اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں انڈیا بلاک کے لیڈران ایک نئی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں، جس کے تحت علامتی طور پر ’سی ای سی‘ کو ہٹانے کی تجویز لے کر آئے ہیں۔ فی الحال اس تجویز پر سبھی اپوزیشن پارٹیوں نے اتفاق نہیں کیا ہے، لیکن کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اسے ہری جھنڈی دے دی ہے۔ دراصل انڈیا بلاک کے لیڈران کے درمیان چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی کارروائی پر تبادلۂ خیال کے لیے رام لیلا میدان میں ایک ’ماک پارلیمنٹ‘ (علامتی پارلیمنٹ) منعقد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ راہل گاندھی نے اس تجویز سے اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔ تجویز میں کہا گیا ہے کہ رام لیلا میدان میں علامتی پارلیمنٹ منعقد کی جائے، جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف علامتی طور پر مواخذے کی کارروائی کی جائے گی۔ یہ تجویز کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور کے سی وینوگوپال کے علاوہ بائیں بازو کی جماعتوں کے لیڈران نے پیش کی ہے۔ اس تجویز پر اصولی اتفاق ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ جو پارٹی جس ریاست میں مضبوط ہے، وہ وہاں چیف الیکشن کمشنر کے معاملے میں قیادت کرے اور اتحادی جماعتیں اس کا ساتھ دیں۔

راہل گاندھی مسلسل چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر اڑے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ نہیں دیتے، وہ کسی بھی قیمت پر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ملک میں ووٹوں کی چوری ہوئی ہے، جس کے ذریعے لوگوں سے ووٹ ڈالنے کا حق چھینا گیا ہے۔ دوسری جانب گزشتہ روز راہل گاندھی نے قومی راجدھانی دہلی میں واقع سنہری باغ رہائش پر انڈیا بلاک کے لیڈران کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی گروپس اور طلباء تنظیموں کے ارکان کے لیے چائے پارٹی کا اہتمام کیا۔ ان سبھی نے مل کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر احتجاجی مظاہروں کی حکمت عملی تیار کی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ انڈیا اتحاد کی جماعتیں متحد ہوکر کھڑی ہیں۔ الگ الگ احتجاجی مظاہرے نہیں ہو رہے ہیں، بلکہ ایک ہی مقصد کے تحت ایک ہی احتجاج کیا جا رہا ہے اور وہ مقصد ہندوستان میں جمہوریت کی بحالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو ختم کر دیا گیا ہے، انتخابی نظام کو کمزور کر دیا گیا ہے اور آئین کو تار تار کیا گیا ہے۔ ہم جمہوری حکمرانی کی بحالی کے لیے مل کر لڑ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت نے جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے، جو جمہوری اظہار رائے کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ ہم اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ مودی اس کے اصل معمار ہیں، امت شاہ اسے نافذ کرنے والے ہیں اور گیانیش کمار اور دیگر افراد بھی اس میں شامل ہیں۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ شکنجہ کس رہا ہے۔ وہ قانون کو ختم کرکے بچ نہیں سکتے ہیں۔ ہم جمہوری عمل کو بحال کرنے کے لیے آخری دم تک لڑتے رہیں گے۔ عوام سے ہمارا وعدہ ہے کہ مودی، شاہ، گیانیش کمار اور دیگر افراد، جو بھی اس کے لیے ذمہ دار ہیں، انہیں سزا دلائی جائے گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں