تحریری یقین دہانی کے باوجود وظیفے میں اضافہ نہیں، جموں و کشمیر کے میڈیکل انٹرنز کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع

سرینگر/جموں و کشمیر میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز نے وظیفے (اسٹائپنڈ) میں اضافے سے متعلق طویل عرصے سے زیر التوا معاملے پر حکومت کی جانب سے باضابطہ حکم نامہ جاری نہ کیے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کر دی ہے۔ انٹرنز کا کہنا ہے کہ حکومت نے تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ 30 دن کے اندر اس معاملے کو حتمی شکل دی جائے گی، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔
احتجاج کرنے والے انٹرنز نے پیر کی شام گورنمنٹ میڈیکل کالجوں (جی ایم سیز) اور ایس کے آئی ایم ایس میڈیکل کالج اسپتال بمنہ میں موم بتی مارچ نکالے اور واضح کیا کہ وظیفے میں اضافے کا باضابطہ حکم نامہ جاری ہونے تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔
پلے کارڈ اٹھائے ہوئے انٹرنز نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی کے باوجود 30 دن گزر چکے ہیں، لیکن اب تک کوئی سرکاری حکم نامہ سامنے نہیں آیا۔ ان کے پلے کارڈوں پر درج تھا، ’’تحریری یقین دہانی دی گئی، 30 دن گزر گئے، لیکن اب تک کوئی حکم نامہ نہیں‘‘ اور ’’حکومت اپنے وعدے پر قائم رہے‘‘۔
انٹرنز کے مطابق حکومت نے تحریری طور پر یقین دلایا تھا کہ 30 دن کے اندر اس معاملے کو حتمی شکل دی جائے گی، لیکن اس یقین دہانی پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
احتجاج کرنے والے انٹرنز نے کہا، ’’حکومت نے 30 دن کے اندر معاملہ حتمی شکل دینے کی تحریری یقین دہانی کرائی تھی۔ ہم اب بھی انتظار کر رہے ہیں، لیکن کوئی باضابطہ حکم نامہ جاری نہیں ہوا۔ اب محض یقین دہانیاں مسئلے کا حل نہیں ہیں، ہم حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدے پر عملی اقدامات چاہتے ہیں۔‘‘
انٹرنز نے 4 اور 9 ستمبر 2026 کو درج سرکاری ریکارڈ نوٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں معاملے کو 30 دن کے اندر حتمی شکل دینے کی بات کہی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقررہ مدت میں حکم نامہ جاری نہ ہونے سے حکام کی بار بار دی جانے والی یقین دہانیوں پر ان کا اعتماد مزید کم ہوا ہے۔
انٹرنز نے کہا کہ مسلسل تاخیر کے باعث اب انہیں زبانی وعدوں پر بھروسہ نہیں رہا اور وہ وظیفے میں اضافے کے حوالے سے واضح اور حتمی فیصلہ چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا، ’’وہی یقین دہانیاں، وہی تاخیر اور وہی پرانا طریقہ کار۔ اب بہت ہو چکا۔ ہم نے صبر سے کام لیا اور بار بار حکام سے رجوع کیا، لیکن نتیجہ ہر مرتبہ وہی رہا۔ جب حکومت پہلے ہی تحریری یقین دہانی کرا چکی ہے تو ہم غیر معینہ مدت تک انتظار نہیں کر سکتے۔‘‘
آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایم ایس اے) کے ایک نمائندے نے خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) کو بتایا کہ پیر کے روز انٹرنز کے ایک وفد نے سول سیکریٹریٹ میں ڈائریکٹر جنرل فائنانس (بجٹ) اور وزیر صحت و طبی تعلیم کے آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) سے ملاقات کرکے اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔
تاہم، نمائندے کے مطابق، اس ملاقات کے دوران بھی وظیفے میں اضافے کا حکم نامہ جاری کرنے کے لیے کوئی واضح مدت نہیں بتائی گئی۔
انٹرنز نے الزام لگایا کہ حکام کے ساتھ بار بار بات چیت کے باوجود معاملہ اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا، جس کے باعث انہیں یہ معلوم نہیں ہو پا رہا کہ وعدے کے مطابق وظیفے میں اضافہ کب نافذ ہوگا۔
انہوں نے بعض حکام کے مبینہ غیر شائستہ رویے پر بھی ناراضگی ظاہر کی اور الزام لگایا کہ مطالبے کے لیے کوشش کرنے والے بعض افراد کو دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔
اے آئی ایم ایس اے کے صدر ڈاکٹر محمد مومن خان نے کہا کہ جب حکومت معاملے کو حل کرنے کے لیے تحریری یقین دہانی کرا چکی ہے تو انٹرنز سے غیر معینہ مدت تک انتظار کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنز اب مزید ملاقاتیں یا نئی یقین دہانیاں نہیں چاہتے، بلکہ حکومت کی جانب سے پہلے ہی کیے گئے وعدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انٹرنز نے فائل کی موجودہ صورت حال کے بارے میں حکام کے مبینہ متضاد بیانات پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ باضابطہ حکم نامہ جاری نہ ہونے کے باعث وظیفے میں مجوزہ اضافے کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی تحریری یقین دہانی کو مقررہ مدت کے اندر ٹھوس انتظامی فیصلے کی شکل دی جانی چاہیے۔
انٹرنز نے اعلان کیا ہے کہ وظیفے میں اضافے کا باضابطہ حکم نامہ جاری ہونے تک ان کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال جاری رہے گی۔
ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز نے واضح کیا کہ وہ حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدے کی تکمیل اور باضابطہ حکم نامے کے اجرا تک اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔
ایک انٹرن نے کے این او کو بتایا کہ اگر جاری ہڑتال کے باوجود حکومت نے حکم نامہ جاری نہ کیا تو ان کے پاس احتجاج میں شدت لانے اور بھوک ہڑتال شروع کرنے پر غور کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
انٹرن نے کہا، ’’ہم خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ حکومت نے ہمیں تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ معاملے کو 30 دن کے اندر حتمی شکل دی جائے گی، لیکن مقررہ مدت گزرنے کے باوجود کوئی حکم نامہ جاری نہیں ہوا۔ ہم نے صبر سے کام لیا اور بار بار حکام سے رجوع کیا، لیکن ہمارے مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اگر حکومت اب بھی اپنے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی تو ہمیں بھوک ہڑتال پر مجبور ہونا پڑے گا۔‘‘
انٹرنز نے ایک بار پھر کہا، ’’تحریری یقین دہانی دی گئی، 30 دن گزر گئے، لیکن کوئی باضابطہ حکم نامہ جاری نہیں ہوا۔ انٹرنز اب بھی انتظار کر رہے ہیں۔ جب تک حکم نامہ جاری نہیں ہوتا، ہماری ہڑتال جاری رہے گی۔‘‘
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کرکے مزید تاخیر کے بغیر معاملے کو حل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار یقین دہانیوں کے بعد اب صرف باضابطہ حکم نامے کا اجرا ہی قابل قبول ہے۔
انٹرنز نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ کسی نئے وعدے کے بجائے پہلے سے کیے گئے وعدے پر عمل درآمد چاہتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تحریری یقین دہانی کا پاس رکھتے ہوئے وظیفے میں اضافے سے متعلق طویل غیر یقینی صورت حال کو ختم کرے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں