اردن کے چرچ میں فائرنگ، 7 افراد ہلاک، 34 زخمی

نئی دہلی/اردن کے وسطی علاقے کرک گورنریٹ کے حمود میں جمعہ کے روز ایک چرچ پر مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد ہلاک جبکہ 34 دیگر زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق حملہ آور ایک گاڑی میں سوار ہوکر آئے، چرچ میں داخل ہوئے اور فائرنگ کرنے کے بعد ایک پک اَپ ٹرک میں فرار ہوگئے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق تاحال کسی بھی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ اردن کے وزیر داخلہ مازن الفریایہ نے کہا کہ حکام حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے حملہ آوروں کو ’’شدت پسندوں کا ایک گروہ‘‘ قرار دیا۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کرک میں دہشت گردی کی اس کارروائی کے خلاف سخت ترین سزاؤں کے ساتھ کارروائی کی جائے گی۔
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے وقت چرچ میں تقریباً 150 سے 200 افراد موجود تھے۔ فائرنگ شروع ہوتے ہی وہاں افراتفری پھیل گئی اور عبادت میں مصروف افراد نے چرچ کی نشستوں کے نیچے چھپ کر اپنی جان بچانے کی کوشش کی، جبکہ بعض افراد نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
بی بی سی عربی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ تقریباً 15 منٹ تک جاری رہا اور حملہ آور فرار ہوتے وقت بھی فائرنگ کرتے رہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں