مہنگی دوائی معاملہ: ’حکومت کے نکمے پن کی سزا عوام کو مل رہی ہے‘، سپریم کورٹ کے ذریعہ مرکز کی سرزنش پر کانگریس کا تبصرہ

مہنگی دوائیوں کے بارے میں سپریم کورٹ نے مرکز کی مودی حکومت سے سخت سوالات پوچھے ہیں اور اسے ڈکیتی سے تعبیر کیا ہے۔ اب اس معاملہ میں کانگریس نے بھی اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت کے نکمے پن کی سزا عام لوگوں کو مل رہی ہے، اور حالات ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ سپریم کورٹ کو حکومت سے سخت سوالات پوچھنے پڑ رہے ہیں۔

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس معاملہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں لکھا ہے کہ ’’مہنگی دوائیوں اور اسپتالوں کے بھاری بھرکم بلوں نے عام لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ گزشتہ 12 سالوں میں مہنگائی کی مار طبی خدمات پر بھی بری طرح پڑی ہے، لیکن مودی حکومت اقتدار کے تکبر میں بے پروا بنی ہوئی ہے۔’’ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’حکومت کے نکمے پن کی سزا عام لوگ برداشت کر رہے ہیں۔ خاندانوں پر علاج کے بھاری بلوں کا بوجھ پڑ رہا ہے اور لوگوں کو اپنوں کا علاج کرانے کے لیے قرض لینے تک کی نوبت آ رہی ہے۔‘‘

جئے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو براہ راست بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’مودی جی، طبی خدمات صرف کوئی کاروبار نہیں، لوگوں کی زندگی کا سوال بھی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری دوا کمپنیوں کے منافع کی حفاظت کرنا نہیں بلکہ عوام کو سستی دوائیں اور کفایتی علاج دستیاب کرانا ہے۔‘‘ وہ یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ ’’عام آدمی کو علاج کے لیے قرض میں ڈوبنے پر مجبور کرنا کس طرح کے ’اچھے دن‘ ہیں؟‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری نے عدالت عظمیٰ کے ذریعہ مرکزی حکومت سے سوال کیے جانے کو بہت اہم ٹھہرایا اور کہا کہ حالات کچھ اس طرح کے بن گئے ہیں جب سپریم کورٹ کو حکومت سے سخت سوالات پوچھنے پڑ رہے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’حکومت کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی فکر کرے اور ان کے مفادات کی حفاظت کرے۔ لیکن جب حکومت اپنی ذمہ داری سے منھ موڑ لیتی ہے تو سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ یہ مودی حکومت کی بڑی ناکامی ہے۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں