لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج صبح ’ٹاٹا گروپ‘ سے متعلق جاری تنازعہ پر ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس تبصرہ پر مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’راہل گاندھی، آپ اپوزیشن لیڈر ہیں، اس لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کریں۔ ساتھ ہی تجارتی و قانونی معاملات کو سرسری طور پر مجرمانہ معاملہ قرار دینا بھی ناقابل قبول ہے۔‘‘ اس کا جواب راہل گاندھی نے 2 تلخ سوالات کے ساتھ دیا ہے۔ انھوں نے مرکزی وزیر مالیات کی سوشل میڈیا پوسٹ پر ریپلائی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’محترمہ سیتارمن، (1) آخر وہ کون سا ’قانونی اور تجارتی‘ معاملہ تھا جس کے لیے ٹاٹا ٹرسٹس اور ٹاٹا سنز کو امت شاہ کی رہائش پر طلب کیا گیا تھا؟ (2) آخر ’نمبر 1‘ کا چہیتا کب اس کھیل میں داخل ہونے والا ہے اور ٹاٹا کے کون کون سے حصے اسے ملنے والے ہیں؟‘‘
راہل گاندھی نے نرملا سیتارمن کے سوشل میڈیا پوسٹ پر صرف 2 سوالات ہی نہیں پوچھے ہیں، بلکہ اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’آپ کے 4-3 چہیتے کاروباری افراد کو چھوڑ کر ہندوستان کے باقی تمام کاروباری افراد پہلے ہی آپ سب سے نفرت کرتے ہیں، انھیں اکسانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ دراصل نرملا سیتارمن نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’’آپ بارہا ہندوستانی صنعت اور ہمارے کاروباری افراد کی کامیابیوں کو کمتر دکھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کیا اب آپ ہمارے کاروباری لیڈران کو بھی اپنے ساتھ شامل کر کے بداعتمادی اور زہریلا ماحول پھیلانے کے لیے اکسانا چاہتے ہیں؟‘‘ راہل گاندھی نے نرملا سیتارمن کے اسی تبصرہ کے جواب کہا کہ کاروباری افراد پہلے ہی مودی حکومت سے نفرت کرتے ہیں، اور انھیں اکسانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔
نرملا سیتارمن نے اپنی پوسٹ میں راہل گاندھی کو ’خاموش‘ کرنے کے لیے کئی باتیں کہیں، لیکن راہل گاندھی نے فوری جواب دے کر اپنا رخ واضح کر دیا ہے۔ نرملا نے اپنی پوسٹ میں کانگریس لیڈر کو یہ بھی کہا تھا کہ ’’سیاسی پارٹیوں، لیڈروں، حکومتوں اور اداروں کی یکساں ذمہ داری ہے کہ وہ ہماری صنعت کی حمایت کریں، ہمارے کسانوں کو مضبوط بنائیں اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ لہٰذا اپنے محدود سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے تعمیری انداز میں بات چیت کرنا ضروری ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں :
قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے آج صبح کی گئی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ ٹاٹا گروپ کو منصوبہ بند طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے اور ملک کا کوئی بھی کاروباری شخص اس معاملے پر کھل کر بولنے کی ہمت نہیں کر پا رہا ہے۔ انھوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا تھا کہ ان مبینہ جرائم کے لیے انصاف یقینی بنایا جائے گا۔ راہل گاندھی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹاٹا گروپ کی اہم ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز کی قیادت کو لے کر تنازعہ چل رہا ہے۔ اس تنازعہ کے باعث ٹاٹا ٹرسٹس کے عہدیداروں کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔ معاملہ اب ٹاٹا سنز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز تک بھی پہنچ گیا ہے۔