نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے سالانہ اجلاس میں ملک بھر میں مساجد، عیدگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کے خلاف انہدامی کارروائیوں کو روکنے اور مدارس کو منظوری و جانچ کے نام پر ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعیۃ علماء ہند کی تمام صوبائی، ضلعی اور تحصیلی اکائیاں مرکزی جمعیۃ کی جانب سے مقرر کردہ ایک ہی تاریخ اور وقت پر متعلقہ حکام کو میمورنڈم پیش کریں گی۔
جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کا سالانہ اجلاس جمعہ کو ہریانہ کے ضلع نوح میں میوات کے ڈی ایل ایف اسپرنگ فیلڈ، سہسولا پٹی، پیپاکا میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی پرچم کشائی کے ساتھ شروع ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر سے تقریباً دو ہزار ارکانِ منتظمہ، علماء اور سرکردہ شخصیات شریک ہو رہی ہیں۔
اجلاس کے ابتدائی مرحلے میں مدارس کے تحفظ، مساجد اور دیگر اسلامی شعائر کے خلاف انہدامی کارروائیوں کی روک تھام اور یکساں سول کوڈ کے موضوعات پر تجاویز منظور کی گئیں۔ مدارس سے متعلق تجویز میں منظوری اور جانچ کے نام پر تعلیمی اداروں کو ہراساں کرنے، ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے اور اقلیتی تعلیمی اداروں کو متنازع بنانے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی گئی۔
حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسی کارروائیاں فوری بند کی جائیں اور مدارس کو آئین کے تحت حاصل حقوق و تحفظات کی ضمانت دی جائے۔ تاہم مدارس کے ذمہ داران کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اراضی کے کاغذات، منظور شدہ نقشے، ہاسٹل میں مقیم طلبہ کے شناختی کوائف اور مالیاتی کھاتوں کے آڈٹ سمیت تمام دستاویزات مکمل شفافیت کے ساتھ مرتب اور محفوظ رکھیں۔
مساجد کے تحفظ سے متعلق تجویز میں کہا گیا کہ عبادت گاہیں مسلمانوں کے مذہبی عقیدے اور اجتماعی شناخت کی علامت ہیں۔ اجلاس نے پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے 12 دسمبر 2024 کے عبوری حکم پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ تجویز میں سنبھل کی تاریخی جامع مسجد کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یک طرفہ سروے کے حکم کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے امن و امان کو متاثر کیا۔
اجلاس نے حکومت اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ قانونی کارروائی اور متاثرہ فریق کو منصفانہ موقع دیے بغیر مساجد کے انہدام کو روکا جائے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
جمعیۃ کی تمام اکائیوں کو مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کی معاونت کرتے ہوئے اراضی، خسرہ و کھتونی، بلدیاتی ٹیکس اور دیگر قانونی دستاویزات کی جانچ و تکمیل آئندہ چھ ماہ میں کرانے کی ہدایت بھی دی گئی۔ یکساں سول کوڈ سے متعلق تجویز میں اس قانون کو مسترد کرتے ہوئے اسے تفریق پر مبنی قرار دیا گیا۔
اجلاس 31 اکتوبر کو دوپہر تک جاری رہے گا، جس میں ملک کی موجودہ صورت حال اور مسلمانوں کو درپیش سماجی، تعلیمی اور تنظیمی مسائل پر مزید تجاویز پیش کی جائیں گی۔ مولانا محمود اسعد مدنی کا اہم خطاب بھی اجلاس کا حصہ ہوگا۔