نیشنل کانفرنس میں اختلافات کی خبریں بے بنیاد، پارٹی میں اتحاد برقرار ہے: شوکت میر

سرینگر/جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر کشمیر شوکت احمد میر نے کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی ناراضگی اور اختلافات سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں اتحاد مکمل طور پر برقرار ہے۔
سرینگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت احمد میر نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس کے بعض اراکین اسمبلی کی حالیہ ملاقات دراصل دربار موو سے قبل ایک معمول کی نشست تھی، تاہم اسے غیر ضروری طور پر پارٹی کے اندر بغاوت یا اختلافات کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کابینہ میں توسیع کے بعد پارٹی کے بعض ارکان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، جو ان کا جمہوری حق ہے اور پارٹی کے اندر کسی کو بھی اپنی رائے ظاہر کرنے سے نہیں روکا جاتا۔
شوکت میر کے مطابق متعدد اراکین اسمبلی کو فون کرکے اس ملاقات میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، جہاں کابینہ میں توسیع کے مختلف پہلوؤں، بشمول اس کے فوائد اور نقصانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران میڈیا کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا، تاہم جب اراکین اسمبلی باہر آئے تو معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور بعض حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس میں 17 ارکان شامل تھے۔
پارٹی کے بعض اراکین اسمبلی میں ناراضگی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے اور اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پارٹی کے اتحاد یا قیادت کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاندان میں بھی جب کسی ایک فرد کو دوسرے پر ترجیح دی جاتی ہے تو اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی خاندان چھوڑ کر چلا جائے گا۔ اسی طرح کسی رکن اسمبلی کی ناراضگی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پارٹی یا اس کی قیادت سے علیحدگی اختیار کرلے گا۔
شوکت احمد میر نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس کے اندر پھوٹ ڈالنے کی کوششیں ناکام ہوں گی اور اختلافِ رائے سے پارٹی کے اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں