کابینہ میں ردوبدل کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے ارکانِ اسمبلی کا ریاستی درجے اور دفعہ 370 کی بحالی کے لیے جدوجہد تیز کرنے پر زور، 2024 کے انتخابی منشور پر مقررہ مدت میں عمل درآمد کا مطالبہ

پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو مطالبات پر مشتمل یادداشت ارسال، کابینہ کی جامع تشکیلِ نو اور بعض وزراء کی تبدیلی بھی مطالبات میں شامل

 

سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے وہ ارکانِ اسمبلی جو منگل کے روز ہونے والی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کو لے کر پارٹی قیادت سے ناراض ہیں، نے اپنے مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت تیار کی ہے، جس میں کابینہ کی تشکیلِ نو، جموں و کشمیر کے ریاستی درجے اور دفعہ 370 کی بحالی کے لیے سیاسی جدوجہد تیز کرنے کے علاوہ پارٹی کے 2024 کے انتخابی منشور پر مقررہ مدت میں عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ یادداشت پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی رہائش گاہوں پر بھیجی گئی ہے، تاہم نیشنل کانفرنس نے ابھی تک یادداشت موصول ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس یادداشت کا مسودہ جمعہ کی دوپہر این سی کے رکنِ اسمبلی حلقہ لولاب قیصر جمشید لون کی رہائش گاہ پر منعقدہ 18 ارکانِ اسمبلی کی میٹنگ کے دوران تیار کیا گیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ارکانِ اسمبلی نے پارٹی کے انتخابی منشور پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے اور دفعہ 370 کی بحالی کے لیے سیاسی جدوجہد کو مزید تیز کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
یادداشت میں مشیر ناصر اسلم وانی اور ان وزراء کو عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ بھی شامل ہے جنہیں وزارت میں دو سال مکمل ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پارٹی ارکانِ اسمبلی نے کابینہ کی جامع تشکیلِ نو اور ڈاچی گام اجلاس میں طے پانے والے اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ 3 جون کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں داچھی گام میں منعقدہ اجلاس کے دوران پارٹی ارکانِ اسمبلی نے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور وزراء جاوید رانا اور ستیش شرما کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے تھے۔
اگرچہ حالیہ کابینہ ردوبدل میں ستیش شرما کو وزارت سے ہٹا دیا گیا، تاہم جاوید رانا سے کئی اہم محکموں کے قلمدان واپس لے کر ان کے اختیارات محدود کر دیے گئے۔ دوسری جانب نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری سڑک و تعمیرات عامہ (آر اینڈ بی) اور صنعت و تجارت کے محکموں کے قلمدان برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
اس گروپ میں شامل ایک رکنِ اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ انہیں 25 سے زائد ارکانِ اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اور ان کا واحد مقصد نیشنل کانفرنس میں اصلاحات لانا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم خود نیشنل کانفرنس ہیں اور گزشتہ 30 برسوں سے پارٹی کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کرتے آئے ہیں۔ ہم چند افراد کو پارٹی پر قبضہ کرنے یا اسے ایک کارپوریٹ ادارے میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘
ایک اور رکنِ اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ ڈاچی گام اجلاس کے دوران جس وزیر کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، وہ اس کے باوجود اپنے اہم محکموں کے قلمدان برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں