لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی قیادت میں یکم جنوری کو ’چلو دہلی‘ مہم ایک تاریخ رقم کرنے کے دروازے پر کھڑی ہے۔ ایسا اس لیے کہا جا سکتا ہے کیونکہ ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگ دہلی پہنچ رہے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یکم نومبر کو ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف رام لیلا میدان میں ہونے والی ریلی کم از کم 10 لاکھ لوگوں کی گواہ بنے گی۔ کانگریس نے اس ریلی کے لیے خاص طور سے سوشل میڈیا پر زوردار مہم چلا رکھی ہے، جس کا اثر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کانگریس کے سرکردہ لیڈران بھی ویڈیو پیغام جاری کر لوگوں کو اس ریلی کی اہمیت سمجھا رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ ’ووٹ چوری‘ کو روکنا ہماری جمہوریت کے لیے کتنا ضروری ہے۔
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے آج گجرات کانگریس صدر امت چاؤڑا کا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’’مودی حکومت عوام سے ووٹ کا حق چھیننے پر آمادہ ہے۔ ایسے میں ہم سبھی کو اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔‘‘ اس ویڈیو میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے یکم نومبر کو آپ سبھی رام لیلا میدان میں جمع ہوں اور ہمارے ساتھ ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ کا نعرہ بلند کریں۔‘‘
چھتیس گڑھ میں کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر چرن داس کا ویڈیو پیغام بھی کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیا ہے۔ اس میں وہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ’’بی جے پی ہمارے بنیادی حقوق کو چھین رہی ہے۔ ’ووٹ چوری‘ کر جمہوریت کو برباد کر رہی ہے۔ ایسے میں جمہوریت کو بچانے کے لیے یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی قیادت میں مہا ریلی ہونے جا رہی ہے۔ میری اپیل ہے کہ آپ سبھی رام لیلا میدان پہنچ کر جمہوریت کو بچانے کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔‘‘
ایک ویڈیو رام لیلا میدان میں ہو رہی تیاریوں کی بھی جاری کی گئی ہے، جس میں خاتون اینکر بتا رہی ہے کہ رام لیلا میدان میں لوگوں کا جمع ہونا کیوں ضروری ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ ’’رام لیلا میدان تیار ہے، ’ووٹ چوری‘ کے خلاف سب سے بڑی عوامی تحریک کے لیے۔ جہاں پورا ہندوستان ملک کے غداروں سے اپنے ایک ایک ووٹ کا حساب مانگے گا اور پوری طاقت سے کہے گا– ووٹ چور، گدی چھوڑ۔‘‘