مدھیہ پردیش کے شیپور میں واقع کونو نیشنل پارک کی حدود سے باہر نکلنے والے 19 ماہ کے چیتے کے این جی-22 کی مشتبہ حالات میں موت کے معاملے میں سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں مرینا اور شیپور کے محکمۂ جنگلات کے 6 ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 8 مشتبہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پہاڑ گڑھ (مرینا) کے نتن واس علاقے میں زخمی حالت میں ملنے والے چیتے کے جسم سے بندوق کے 5 چھرّے نکالے گئے تھے۔ ہنگامی سرجری کے باوجود منگل کے روز اس کی موت ہو گئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے ایس ٹی ایف تشکیل دی ہے، جبکہ مرکزی حکومت نے بھی جانچ کے لیے افسران کی ایک ٹیم روانہ کی ہے۔
فی الحال چیتے کی ہلاکت معاملے میں تفتیش تیز کر دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیپور اور مرینا اضلاع کے محکمۂ جنگلات کے عملے کے خلاف پہلی کارروائی کی گئی ہے۔ ضلع کے وجے پور سے 3 اور پہاڑ گڑھ سے 3 ملازمین کو معطل کیا گیا ہے۔ ان میں پہاڑ گڑھ کے رینجر آکاش تومر، کنہار چوکی کے ڈپٹی رینجر کیرتی شانڈلیہ اور دنیش مریا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شیپور کے محکمۂ جنگلات کے وجے پور علاقے کے بھی 3 ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ گوالیار فاریسٹ سرکل کے چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (سی سی ایف) لوت بھارتی نے معطلی کی تصدیق کی ہے۔ وہیں اس معاملے میں مشتبہ موگیا برادری کے 8 ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
گوالیار فاریسٹ سرکل کے چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (سی سی ایف) لوت بھارتی نے فون پر بتایا کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی طور پر چیتے کی حفاظت اور نگرانی میں لاپروائی پائے جانے پر شیپور ضلع کے وجے پور سے 3 اور مرینا کے پہاڑ گڑھ سے 3 جنگلاتی اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیموں نے عارضی جھونپڑیوں اور جنگلات سے مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ جنگل کے درمیان کھدائی بھی کرائی گئی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹیم شکار میں استعمال ہونے والے ہتھیار اور واقعے سے متعلق دیگر شواہد تلاش کر رہی ہے۔ حالانکہ ہتھیار کی برآمدگی اور ملزمین کے کردار کے بارے میں سرکاری تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔