کانگریس رکن پارلیمنٹ اکھلیش پرساد سنگھ نے انڈیا اتحاد کی عظیم الشان ریلی کے بارے میں کہا کہ ’’یہ بہت تاریخی ہے۔ یہ عظیم الشان ریلی منعقد ہو رہی ہے۔ اس کے لیے رام لیلا میدان بھی چھوٹا پڑ جائے گا۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف ایک ماحول بن گیا ہے۔‘‘
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف انڈیا اتحاد کی عظیم الشان ریلی سے قبل رام لیلا میدان کے باہر لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی، کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی اور کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کے کٹ آؤٹ لگائے گئے ہیں۔
انڈیا اتحاد کی آج ہونے والی ریلی کے پیش نظر وسطی دہلی کے ڈی سی پی روہت راج بیر نے کہا کہ ’’ہم نے پورے علاقے میں 200 سے 250 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے ہیں۔ منتظمین نے بھی اپنا کنٹرول روم بنایا ہے اور پورے علاقے کی سیکورٹی یقینی بنانے کے لیے ہم مل کر کام کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’رام لیلا میدان میں سیکورٹی کے لیے منتظمین نے الگ الگ حصار بنائے ہیں۔ ان تمام حصاروں کے اندر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے درمیان بنائے گئے راستوں پر بھی پولیس اہلکار موجود ہیں، تاکہ سیکورٹی کا نظام برقرار رہے۔ اس کے علاوہ سیوا دل، سول ڈیفنس کمیٹی اور مقامی ریزیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نمائندوں سمیت بڑی تعداد میں رضاکار بھی ہماری مدد کر رہے ہیں۔ یہ رضاکار آس پاس کی سڑکوں پر بھیڑ کو قابو میں رکھنے میں تعاون کر رہے ہیں۔‘‘
قومی راجدھانی دہلی کے رام لیلا میدان میں آج انڈیا اتحاد کی ایک بڑی ریلی منعقد ہونے جا رہی ہے۔ ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ کے نعرے کے ساتھ منعقد ہونے والی اس ریلی میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنما، کارکنان، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، راہل گاندھی اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سمیت کئی بڑے رہنماؤں کی ریلی میں شرکت کا امکان ہے۔ ریلی سے پہلے کناٹ پلیس کے منٹو روڈ جنکشن سے اجمیری گیٹ ہوتے ہوئے رام لیلا میدان تک مارچ نکالا جائے گا۔ دہلی پولیس نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور 4,000 سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ یہ ریلی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور مبینہ ووٹ چوری کے خلاف منعقد کی جا رہی ہے۔ انڈیا اتحاد کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے ذریعے ووٹرس کے نام غیر قانونی طور پر فہرستوں سے ہٹائے جا رہے ہیں اور انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کے 3 اہم مطالبات ہیں: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ دیں اور انہیں تحفظ فراہم کرنے والے 2023 کے قانون کو منسوخ کیا جائے، ایس آئی آر پر فوری روک لگا کر ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے نام بحال کیے جائیں اور مستقبل کے تمام انتخابات ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جائیں۔