کانگریس کے دونوں ایوانوں کے کنٹرول پر لڑائی، سینیٹ پھر پھی ٹرمپ کے ہاتھ میں رہنے کا امکان
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات
امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی یا مڈٹرم انتخابات کیلئے پولنگ منگل کو شروع ہوگئی جو بعض ریاستوں میں پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح 4 بجے تک جاری رہے گی۔ ان انتخابات میں کون جیتے گا یہ بات ایران جنگ سمیت کئی عالمی معاملات کے رخ کا تعین کرے گی۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ کانگریس پر کنٹرول کھو بیٹھیں گے۔ امریکی کانگریس کے دونوں ایوان، یعنی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) اور سینیٹ پر کس پارٹی کا کنٹرول ہوگا مڈ ٹرم الیکشن اس کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔
مڈ ٹرم الیکشن کیا ہیں
امریکی آئین کے تحت ایوانِ نمائندگان کے تمام اراکین ہر دو سال بعد منتخب ہوتے ہیں، اس لیے اس بار بھی ایوان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، جہاں کسی بھی پارٹی کو سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے کم از کم 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ حکمران ری پبلکن پارٹی کے پاس اس وقت صرف 218 نشستیں ہیں۔ ایک سییٹ بھی ہارگئی تو ایوان نمائندگان کا کنٹرول اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
دوسری طرف سینیٹ کے اراکین کی مدتِ ملازمت چھ سال ہوتی ہے اور ہر دو سال بعد اس کے ایک تہائی اراکین تبدیل ہوتے ہیں، جس کے تحت اس سال سینیٹ کی کل 100 نشستوں میں سے تقریباً 33 سے 34 نشستوں پر نئے انتخابات ہو رہے ہیں جہاں اس وقت ریپبلکنز کو 53 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہے۔
پولنگ کب ختم ہوگی اور نتیجہ کب آئے گا؟
ان انتخابات کے لیے پولنگ ختم ہونے کا عمل امریکی ٹائم زونز کے فرق کی وجہ سے مختلف اوقات میں مکمل ہوگا، جو پاکستانی وقت کے مطابق 4 نومبر کی صبح 4:00 بجے سے شروع ہو کر صبح 7:00 بجے تک بتدریج ختم ہوگا۔
کینٹکی اور انڈیانا جیسی مشرقی ریاستوں میں پولنگ پاکستانی وقت کے مطابق صبح چار بجے ہی بند ہو جائے گی، جبکہ کیلیفورنیا، ہوائی اور الاسکا جیسی مغربی ریاستوں میں پولنگ کا عمل پاکستانی وقت کے مطابق صبح 8:00 بجے سے صبح 11:00 بجے تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔ اس لیے جیسے ہی مشرقی ریاستوں میں پولنگ ختم ہوگی، امریکی میڈیا پر ابتدائی رجحانات اور اشارے آنا شروع ہو جائیں گے۔
جہاں تک حتمی نتائج کا تعلق ہے، تو ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج تو 4 نومبر کی دوپہر تک کافی حد تک واضح ہو جائیں گے، لیکن حتمی اور سرکاری نتائج آنے میں کئی دن یا ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ اس تاخیر کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں کروڑوں ووٹرز ڈاک کے ذریعے (میل ان بیلٹ) اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہیں جن کی گنتی میں وقت لگتا ہے، اور اگر کسی اہم سوئنگ اسٹیٹ یا حلقے میں مقابلہ بہت سخت یا برابر کا ہو تو ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور قانونی چیلنجز کے باعث حتمی فاتح کا اعلان ہونے میں نومبر کے وسط تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
کون جیتے گا؟
جیت کے امکانات کے حوالے سے امریکی اور برطانوی میڈیا کے ماڈلز اور فائنل پاور رینکنگز ایک منقسم پارلیمنٹ کی پیش گوئی کر رہی ہیں۔ ایوانِ نمائندگان (ہاؤس) میں ڈیموکریٹس کی واپسی کا واضح امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سیاسی لہر اپوزیشن کے حق میں گئی تو ڈیموکریٹس 240 نشستوں تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ ریپبلکنز کے جیتنے کی صورت میں بھی ان کی نشستیں 212 کے آس پاس رہ سکتی ہیں جو اکثریت سے کم ہیں۔
تاہم سینیٹ کا مقابلہ اس وقت بالکل برابر یعنی ٹاس اپ پر کھڑا ہے، جہاں ریپبلکنز کو اپنی اکثریت بچانے کے لیے الاسکا، ٹیکساس، آئیووا اور مائن جیسی ریاستوں میں سخت چیلنج کا سامنا ہے، اور اگر ڈیموکریٹس یہ کڑے مقابلے جیت گئے تو وہ سینیٹ میں 54 نشستوں کے ساتھ اکثریتی کنٹرول سنبھال سکتے ہیں، ورنہ سینیٹ ریپبلکنز کے پاس ہی رہے گی۔