انٹرپول کے نوٹس کے بعد عمان سے 200 کروڑ کی شادی سے 90 ہزار کروڑ روپے کا سٹہ نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کے بڑے آن لائن سٹے بازی کے اسکینڈل، مہاديو آن لائن بک نیٹ ورک کے سرپرست چندراکر کو انٹرپول کا ریڈ نوٹس جاری ہونے کے بعد عمانی پولیس نے گرفتار کیا۔
تحقیقاتی ادارے کی ٹیم سوربھ چندراکر کو بھارت لائی جہاں طبی معائنے کے بعد رائے پور کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا، تحقیقاتی ادارے کے مطابق سوربھ چندراکر اور اس کے ساتھی روی اپل نے 2019 سے آن لائن سٹے کا کاروبار پھیلایا اور کورونا کی وبا کے دوران اسے مزید وسعت دی اور دونوں دبئی منتقل ہو گئے جہاں سے انہوں نے بھارت میں 3200 سے زائد پینلز اور شاخوں کے ذریعے سٹے کا نیٹ ورک چلایا۔
مقامی آپریٹرز صارفین کو اکاؤنٹس فراہم کرتے اور سٹے کی رقم کا 70 سے 80 فیصد دبئی میں قائم مرکزی دفتر کو منتقل کرتے تھے۔
بھارتی ادارے کے اندازے کے مطابق مہاديو نیٹ ورک، اسکائی ایکسچینج اور لوٹس 365 کے ذریعے مجموعی طور پر 88 ہزار سے 94 ہزار کروڑ روپے کا کاروبار کیا گیا جبکہ 4 سے 5 ہزار کروڑ روپے بیرونِ ملک منتقل کیے گئے اور اس رقم کو چھپانے کے لیے جعلی بینک اکاؤنٹس، فرضی کمپنیاں اور حوالہ نیٹ ورک استعمال کیا گیا۔
اس اسکینڈل کا اہم سراغ فروری 2023ء میں سوربھ چندراکر کی راس الخیمہ میں ہونے والی شاہانہ شادی سے ملا جس پر مبینہ طور پر 200 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، شادی میں مہمانوں کو خصوصی طیاروں کے ذریعے لایا گیا اور مشہور فنکاروں نے پرفارم کیا۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق شادی کے انتظامات کے لیے حوالہ کے ذریعے 112 کروڑ روپے منتقل کیے گئے جبکہ ہوٹلوں کی بکنگ پر 42 کروڑ روپے نقد خرچ ہوئے، شادی کے اخراجات کی دستاویزات بھی تحقیقاتی ادارے نے حاصل کر لی ہیں۔
تحقیقات میں روی اپل، شبھم سونی، وکاس چھپڑیا اور ہری شنکر تیبریوال سمیت متعدد افراد کے کردار سامنے آئے ہیں، ان پر سٹے کی آمدنی بیرون ملک منتقل کرنے، فرضی کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری اور مالی معاملات چھپانے کے الزامات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی ایبکس سے منسلک وکاس گرگ کو بھی اسی کیس میں گرفتار کیا جا چکا ہے اور رپورٹ کا سب سے حساس پہلو سیاسی سرپرستی کے الزامات ہیں۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق ملزم شبھم سونی نے دعویٰ کیا تھا کہ سٹے کی آمدنی سے 508 کروڑ روپے سابق وزیرِ اعلیٰ چھتیس گڑھ بھوپیش بگھیل تک پہنچائے گئے، ایک دوسرے ملزم کے بیان میں بھی 81 کروڑ روپے سیاست دانوں، پولیس افسران اور دیگر افراد میں تقسیم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے نے اگست 2023ء سے جولائی 2026ء تک تقریباً 190 مقامات پر چھاپے مارے اور 2,014 کروڑ روپے کے اثاثے ضبط یا منجمد کیے۔
دبئی میں 1,500 کروڑ روپے مالیت کی 22 جائیدادوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، کیس میں 116 ملزمان کے خلاف 6 چالان جمع کروائے جا چکے ہیں جبکہ 14 افراد گرفتار ہوئے ہیں۔
اسکینڈل کے مرکزی ملزم سوربھ چندراکر کی بھارت منتقلی کو تحقیقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اب تحقیقاتی ادارے اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کریں گے کہ اربوں روپے کے اس مبینہ سٹے کے نیٹ ورک سے کس کس نے فائدہ اٹھایا اور اسے سیاسی و انتظامی تحفظ کون فراہم کرتا رہا۔