اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ آئین سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی اور عدالت قانون سازی کے جائزے کا اختیار رکھتی ہے۔سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کل پیغام دیا گیا کہ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کر سکتی، میں نے بار بار کہا پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے لیکن پارلیمنٹ کے اوپر بھی ایک چیز ہے وہ آئین ہے، پارلیمنٹ آئین سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک کیس میں ہم نے ریمارکس نہیں دیئے کچھ سوالات پوچھے، صرف پوچھا کہ فلاں شخص اہل ہے یا نہیں، مقدمات میں سوالات اٹھتے ہیں، کیا سوالات پوچھ کر ہم نے پارلیمنٹیرینز کی توہین کردی ہے؟، ٹھیک ہے اب سوال نہیں پوچھیں گے ، ہم فیصلے کے وقت آپس میں پوچھیں گے کیس میں کیا ہوا، میں وضاحت دے کراپنی کمزوری نہیں بنانا چاہتا۔ ہمیں انتظامیہ کے عمل اور بنیادی حقوق کو دیکھنا ہے،عدالت قانون سازی کے جائزے کا اختیار رکھتی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیت کو نیک نیتی سے استعمال کریں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایوان میں اس بات پر بحث ہونی چاہیے کہ ایوان کو کام کرنے، تعیناتیوں اور دیگر فیصلے کرنے کا حق ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- اینڈرائیڈ فونز میں نئی اپ ڈیٹ : حقیقت جان کر صارفین حیران
- اردن کے چرچ میں فائرنگ، 7 افراد ہلاک، 34 زخمی
- آر بی آئی نے ‘ان فیڈنگ ورلڈ بینک’ کے خلاف عوام کو کیا خبردار، کہا کہ ادارے کے پاس بینکنگ لائسنس نہیں
- وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
- کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ حتمی، وزارت کے خواہش مند لابنگ بند کریں: عمر عبداللہ