ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

”لب پر آتی ہے دعا بن کے تمنا میری۔۔’طلبہ کو اقبال کی نظم پڑھانے پر ہیڈ ماسٹر معطل

وشوا ہندوپریشداو ربجرنگ دل لیڈرا ن کی جانب سے سکول کو صبح اسمبلی میں ‘لب پر آتی ہے دعا بن کے تمنا میری’ طلبہ کو پڑھانے کی شکایت پر اترپردیش کے پیلی بھیت کے ایک سرکاری اسکول ہیڈ ماسٹر کو برطرف کردیاگیاہے۔
نیوز ایجنسی ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وشوا ہندوپریشدکی شکایت کی وجہ سے بلاک ایجوکیشن افیسر(بی ای او)اوپیندر کمار سے معاملہ کی جانچ کرائی گئی۔تحقیقات میں اس بات کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ اسکول کے بچے عام طور پر صبح کی اسمبلی میں یہ نظم پڑھتے ہیں۔ پیلی بھیت ضلع مجسٹریٹ ویبھو سرایواستو نے نیوز ایجنسی ساؤتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ ہیڈ ماسٹر کو اس لئے برطرف کیاگیا ہے کیونکہ وہ طلبہ سے قومی ترانہ نہیں پڑھواتے تھے۔
مذکورہ ضلع مجسٹریٹ نے کہاکہ "اگر ہیڈ ماسٹر کو کوئی دوسری نظم پڑھانا مقصود تھا تو انہیں اجازت لینا ضروری ہے۔”
اگر انہوں نے قومی ترانے کے بجائے کوئی دوسری نظم پڑھائی ہے تو ان کے خلاف کیس بنتا ہے”۔تاہم مذکورہ معطل 45سالہ ہیڈ ماسٹر فرقان علی نے تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ طلبہ ہمیشہ قومی ترانہ اور اقبال کی نظم اردو نصاب کے حصہ کے طور پرپہلی جماعت سے آٹھویں تک پڑھتے ہیں۔
انہوں نے ساؤتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ وشوا ہندوپریشداور ہندو یوا واہانی کے کارکنوں نے اسکول اور کلکٹریٹ کے باہر میری برطرفی کے لئے دھرنا دیا۔ میرے پاس وہی نظم ہے جو اسکول کے نصاب کا حصہ ہے ۔
بنیادی تعلیم کے عہدیدار(بی ایس اے) پیلی بھیت دیویندر سواروپ نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد کے ارکان کی جانب سے کی گئی شکایت اقبال کی نظم کے خلاف ہے۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وشوا ہندوپریشدکے ضلعی صدر امبریش مشرا نے کہاکہ وہ سرکاری پرائمری اسکول میں "مدرسہ کی دعا” پڑھانے کی مخالفت کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ "ہم نے بی ایس اے کو ایک تحریری شکایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہیڈ ماسٹر کے خلاف کاروائی کی جائے جو سرکاری اسکول میں الگ دعائیہ نظم پڑھارہے ہیں”

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں