بھارتی ریاست منی پور کے کچھ علاقوں میں 70 سال قبل ریاست کے ہند وستان یونین میں ضم ہونے کے خلاف منگل کے روز یوم سیاہ منایا گیا۔ منی پور میں قائم دو زیرزمین تنظیموںرابطہ کمیٹی اور الائنس آف سوشل یونٹی(ASUK) اور تریپورا میں قائم نیشنل لبریشن فرنٹ آف ٹوئپرا (این ایل ایف ٹی )نے 15 اکتوبر 1949 کو بھارت کے ساتھ ان دو ریاستوں کے زبردستی انضمام کے موقع پر اس ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق منی پور کے میدانی علاقوں میں میٹی برادری کے زیر اثر چھ اضلاع 12 سے 18گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس ہڑتال سے متاثر ہوئے۔ ریاستی دارالحکومت اگرتلا میں ایک سینئر پولیس آفیسر نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ تریپورہ میں ہڑتال کی کال کو بڑے پیمانے پر نظرانداز کیا گیا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ کچھ قبائلی علاقے کسی حد تک متاثر ہوئے۔NLFT کے صدر ایچ بورک اور ASUK کے چیئرمین اوکن نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ 1949 کا انضمام منی پور اور تری پورہ کی تاریخ کا ایک سیاہ واقعہ تھا۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم آبادی کے لحاظ سے کم ، سیاسی طور پر پسماندہ ، منقسم، معاشی طور پر منحصر اور کمزور اور معاشرتی طور پر منتشر ہوگئے ہیں۔ ان تمام قومی خرابیوں کی اصل وجہ بھارت کے ساتھ ضم ہونا ہے۔منی پور کے مہاراجہ بودھ چندر سنگھ اور مرکزی حکومت کے نمائندہ وی پی مینن نے 15 اکتوبر 1949 کو منی پور ولی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جبکہ تریپورا کنچن پروا دیوی کی مہارانی نے 9 ستمبر 1949 کو حکومت ہند کے ساتھ تریپورا ضم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس وقت وہ مہاراجہ بیر بکرم مانیکیا بہادر کی موت کے بعد ریجنٹ کی حیثیت سے کام کررہی تھیں کیونکہ ان کے جانشین شہزادہ کریٹ بکرم اس وقت کمسن تھے تھے۔ تنظیموں کے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انضمام کے معاہدوں پر دونوں ریاستوں کے دو نا اہل حکام سے زبردستی دستخط کرائے گئے تھے۔یہ دونوں معاہدے 15،1949 اکتوبر کو اس وقت نافذ ہوئے جب یہ دونوں ریاستیں یونین آف انڈیا کے ساتھ ‘سی’ زمرے کے طور پر مل گئیں۔