اسلام آباد: تین جامعات کے طلباء رہائشی سیکٹر میں کرائے کے گھروں سے بے دخل

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی تین بڑی جامعات کے طلبہ وطالبات نے وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے) کی جانب سے سیکٹر ای ایلیون کے رہائشی علاقوں سے بے دخل کیے جانے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

اسلام آباد کی بحریہ یونیورسٹی، ائیر یونیورسٹی اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور دیگر جامعات کے طلبہ وطالبات کا کہنا تھا کہ ان کے متعلقہ ادارے انہیں ہاسٹل کی سہولت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے اسلام آباد کے سیکٹر ای ایلیون اور دیگر رہائشی علاقوں میں پرائیویٹ رہائش اختیار کر رکھی ہے۔

احتجاج کرنے والے طلبہ وطالبات کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے نے ان سے رہائشی ہاسٹل خالی کرادیے ہیں جس سے ان کی رہائش کے حوالے سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں اور پڑھائی شدید متاثر ہوگئی ہے۔

احتجاج کرنے والے اسٹوڈنٹس کا کہنا تھا کہ ان کی جامعات انھیں ہاسٹل کی سہولت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں اور وہ پرائیوٹ ہاسٹلوں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جامعات ہائر ایجوکیشن کمیشن سے سالانہ کروڑوں روپے کے فنڈز وصول کرتی ہیں لیکن وہ طلبہ و طالبات کو ہاسٹل کی سہولت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

انہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تینوں جامعات کی انتظامیہ سے اس حوالے سے بازپرس کرے تاکہ ان کی رہائش کا مسٗلہ ہمیشہ کے حل ہوسکے۔ انہوں نے سی ڈی اے سی بھی مطالبہ کیا کہ وہ خالی کرائے گئے ہاسٹل دوبارہ کھولے۔

دریں اثناء اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد عمر رندھاوا نے احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات کے ساتھ مذاکرات کیے۔ انہوں نے طلبہ وطالبات سے کہا کہ وہ ایک مذاکراتی کمیٹی بنائے تاکہ اس حوالے سے سی ڈی اے سے بات کی جاسکے۔

انہوں نے احتجاجی طلبہ و طالبات کو یقین دلایا کہ سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سربراہ کی اسلام آباد واپسی پر اتوار تک معاملہ حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ و طالبات کا مسئلہ سی ڈی اے کے ساتھ ہے۔

اے سی عمر رندھاوا کی یقین دہانی پر طلبہ و طالبات نے احتجاج ختم کردیا، جس کے بعد بلاک کی گئی سڑک ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں