نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے تفتیشی ماہرین کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ خانہ جنگی کے شکار ملک لیبیا میں روس کے واگنر گروپ سے تعلق رکھنے والے کرائے کے سیکڑوں قاتل بھی لڑ رہے ہیں۔ جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق کرائے کے روسی فوجی لیبیا کے باغی جنرل خلیفہ حفتر کی حمایت میں لڑائی کا حصہ ہیں اور مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق یہ خفیہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے تیار کی ہے، جس کے مندرجات کی تفصیلات سفارتی ذرائع نے مہیا کی ہی، جن کے مطابق روس کی ایک سیکورٹی کمپنی کا نام واگنر گروپ ہے اور اس کے غیر سرکاری نیم عسکری اہل کار لیبیا کی خانہ جنگی میں شامل ہیں، جو عالمی حمایت یافتہ فائز السراج کی حکومت کے خلاف باغی ملیشیا کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔ عالمی ادارے کے ماہرین کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے لیبیا میں واگنر گروپ کے نجی مسلح جنگجو اکتوبر 2018ء سے اب تک موجود ہیں اور خانہ جنگی میں حصہ لے رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس ادارے کے اجرتی جنگجو کئی طرح کے فرائض انجام دیتے ہیں، جن میں تکنیکی مدد، فضائی نگرانی کے امور میں تعاون، الیکٹرانک دفاعی نظاموں کو فعال رکھنا اور گھات لگا کر نشانہ بنانے والے نشانہ بازوں کے طور پر کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- غازی آباد: ’گلموہر گرینز سوسائٹی‘ کے 2 ٹاور منہدم کیے جائیں گے، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے دیا حکم
- مدھیہ پردیش: چیتے کو گولی مارے جانے کی تفتیش کے لیے ایس ٹی ایف تشکیل
- مرکز اور اتر پردیش میں ’تعلیم کے بدلے خون‘ کا کاروبار کرنے والے آدم خور برسراقتدار ہیں: کانگریس
- بھوپال میں کھلا ہندوستان کا پہلا ’کچرا کیفے‘، خشک کچرا دو اور کھانا لو
- ٹاٹا گروپ معاملہ پر راہل گاندھی کے بیان کو سیتارمن نے بنایا ہدف تنقید، جواب میں راہل نے داغ دیے 2 تلخ سوالات