نئی دہلی (جسارت نیوز) بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز آل راؤنڈر سریش رائنا نے کہا ہے کہ بھارت کرکٹ اینڈ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کو ایسے بھارتی کھلاڑی جو بورڈ کے ساتھ کنٹریکٹ میں شامل نہیں انکو غیر ملکی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت کی اجازت دینی چاہیے۔ بیان میں انہوں نے کہا کہ تاحال بھارتی کھلاڑیوں کو بیرون ملک کسی بھی لیگ میں کھیلنے کے لئے این او سی جاری نہیں کیا گیا، جبکہ بہت سے دوسرے ممالک میں کھلاڑیوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ متعدد ٹورنامنٹس اور لیگز میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ رائنا نے کہا کہ عرفان پٹھان، یوسف پٹھان اور رابن اوتھاپا جیسے کھلاڑیوں کے پاس فی الحال (بی سی سی آئی) بورڈ کے ساتھ مرکزی معاہدہ نہیں ہے، بورڈ کو ان کھلاڑیوں کو کم از کم2 غیر ملکی لیگز میں شرکت کی اجازت دینی چاہئے۔ مایہ ناز آل راؤنڈر نے کہا کہ اس طرح کی شرکت سے کھلاڑیوں کو فٹ رہنے کا موقع ملے گا اور وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2017ء کے آغاز میں یوسف پٹھان جو اس وقت بھارت کے کنٹریکٹ یافتہ قومی کرکٹ اسکواڈ میں شامل نہیں تھے کو ابتدا میں ہانگ کانگ بلٹز میں کھیلنے کے لئے این او سی دے دی گئی تھی لیکن بعد میں انکو انکار کر دیا گیا۔ رائنا نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بھارت کرکٹ اینڈ کنڑول بورڈ (بی سی سی آئی) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) یا فرنچائزز کے ساتھ کچھ ایسا منصوبہ طے کرے کہ جو بھی کھلاڑی بی سی سی آئی کے معاہدے میں شامل نہ ہو اسے غیر ملکی ٹی ٹوئنٹی لیگوں میں کھیلنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت بہت سارے کھلاڑی جن میں یوسف پٹھان ، رابن اوتھاپا اور بہت سے معیاری کھلاڑی موجود ہیں جو بیرون ملک جا کر مختلف لیگز میں شرکت کر کے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر کرسکتے ہیں اور بہت سی چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کم از کم2 لیگز میں کھیلنے کی اجازت دیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- غازی آباد: ’گلموہر گرینز سوسائٹی‘ کے 2 ٹاور منہدم کیے جائیں گے، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے دیا حکم
- مدھیہ پردیش: چیتے کو گولی مارے جانے کی تفتیش کے لیے ایس ٹی ایف تشکیل
- مرکز اور اتر پردیش میں ’تعلیم کے بدلے خون‘ کا کاروبار کرنے والے آدم خور برسراقتدار ہیں: کانگریس
- بھوپال میں کھلا ہندوستان کا پہلا ’کچرا کیفے‘، خشک کچرا دو اور کھانا لو
- ٹاٹا گروپ معاملہ پر راہل گاندھی کے بیان کو سیتارمن نے بنایا ہدف تنقید، جواب میں راہل نے داغ دیے 2 تلخ سوالات