طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے متحارب فریقوں میں خونریز جھڑپوں کے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔ علاقے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان دعووں کی تصدیق مشکل ہے۔ لیبیا میں عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور باغی جنرل خلیفہ حفتر کی ملیشیا اقتدار پر قبضے کے لیے دارالحکومت کے قرب و جوار میں ایک دوسرے پر کامیابی کے دعوے کرتے رہتے ہیں۔ دونوں کی کوشش ہے کہ اپنے مدمقابل سے فوجی اہمیت کے ٹھکانوں اور دوسرے علاقوں کا قبضہ چھین لیا جائے۔ امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق طرابلس کی سرکاری افواج دارالحکومت کے اندر ازسر نو ٹھکانے بنا رہی ہیں۔ دوسری جانب ایک وڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں خلیفہ حفتر کی ملیشیا پیش قدمی کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ وزیراعظم فائز السراج کی طرابلس حکومت کے ایک ٹوئٹر اکاونٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی افواج نے باغی ملیشیا کے راکٹوں اور فوجی گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پروفیسر پاول سیلون کا کہنا ہ کہ لیبیا میں جنگ سے متعلق غلط معلومات کی تشہیر کا سلسلہ جاری ہے۔ واضح رہے کہ طرابلس حکومت کے قریبی ذرائع ابلاغ الزام لگاتے ہیں کہ خلیفہ حفتر کی ملیشیا نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دارالحکومت کے اندر گولا باری میں ایک ہی خاندان کے افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جب کہ دوسری جانب باغیوں کے وفادار میڈیا نے اسپیکر پارلیمان عاقلہ صلاح کو ان لوگوں کے اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے دکھایا ہے، جنہیں مبینہ طور پر طرابلس حکومت کی فوجوں نے ہلاک کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- غازی آباد: ’گلموہر گرینز سوسائٹی‘ کے 2 ٹاور منہدم کیے جائیں گے، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے دیا حکم
- مدھیہ پردیش: چیتے کو گولی مارے جانے کی تفتیش کے لیے ایس ٹی ایف تشکیل
- مرکز اور اتر پردیش میں ’تعلیم کے بدلے خون‘ کا کاروبار کرنے والے آدم خور برسراقتدار ہیں: کانگریس
- بھوپال میں کھلا ہندوستان کا پہلا ’کچرا کیفے‘، خشک کچرا دو اور کھانا لو
- ٹاٹا گروپ معاملہ پر راہل گاندھی کے بیان کو سیتارمن نے بنایا ہدف تنقید، جواب میں راہل نے داغ دیے 2 تلخ سوالات