ریاست بہار کے ضلع بکسر میں درجنوں لاشیں گنگا ندی میں تیرتی دکھائی دی تھیں، جس کے بعد لوگوں میں خوف و تعجب کی لہر تھی۔ بکسر انتظامیہ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ لاش اتر پردیش سے بہہ کر آئی ہیں، جن میں خاص طور سے غازی پور کا ذکر کیا تھا۔ القمرآن لائن کے نمائندے نے اس کی سچائی جاننے کے لیے غازی پور و چندولی ضلع کے شمشان گھاٹوں کا جائزہ لیا کہ اتنی بڑی تعداد میں کہاں اموات ہو رہی ہے اور کیوں ایسے گنگا میں لاشیں ہے بہائی جا رہی ہیں؟
القمرآن لائن کے نمائندے نے چندولی ضلع کے بلوا شمشان گھاٹ کا جائزہ لیا، جہاں پر مختلف لوگوں سے بات چیت کی۔
گاؤں کے لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ اب سے کچھ دن پہلے اس شمشان گھاٹ پر روز مرہ کے معمولات سے زیادہ لاشیں جلائی گئی ہیں، لیکن اب قابو میں ہے۔
بیشتر لاشوں کو جلا دیا جاتا لیکن چند لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے عقیدت کے مطابق گنگا میں لاشیں بہا دیتے ہیں۔
گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ ضلع چندولی اور غازی پور کے ایسے گاؤں ہیں جن میں سنت کبیر داس کے نظریات پیروکار موجود ہیں، ان نظریات کے ماننے والے لاشوں کی آخری رسومات یاتو دفن کرکے کرتے ہیں یا پانی میں بہا دیتے ہیں۔
ایسے نظریات کے لوگوں نے گنگا میں لاشیں بہائیں اور کچھ دن بعد اب وہ تیرتی دکھ رہی ہیں۔
غازی پور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ایم پی سنگھ نے نے اس سلسلے میں دریافت کیا ہے کہ بہار کے بکسر انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ غازی پور ضلع سے گنگا میں یہ لاشیں بہہ کر ائیں ہیں اس کی کیا سچائی ہے؟
جس پر غازی پور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ایم پی سنگھ نے بتایا کہ بکسر انتظامیہ کے دعویٰ میں صداقت نہیں ہے۔ اس کی ان لوگوں کو تصدیق کرنی چاہیئے، ہم نے مختلف ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ایک ایک موبائل ٹیم ہے جو گنگا میں گشت کر رہی ہے اور اس بات کا پتہ لگا رہی ہے کہ یہ لاشیں کہاں سے آئی ہیں اور کتنی تعداد میں ہیں۔
دوسری ٹیم موقع واردات پر جارہی ہے اور لاشوں کا جائزہ لے رہی ہے، لیکن ان ٹیموں کو اب تک چند لاشوں کا ہی پتہ چلا ہے جس کے بعد ان کی آخری رسومات ادا کردی گئی ہے۔
تاہم مقامی صحافیوں کا دعوی ہے کہ غازی پور کے پارہ اور گہمر گاوں میں درجنوں لاشیں موجود ہیں، جن کی آخری رسومات ادا نہیں کی گئی ہے لیکن ضلع مجسٹریٹ ایم پی سنگھ نے اس سے انکار کیا ہے انہوں نے مزید کہا چند لاشیں ہیں جن کی آخری رسومات ادا کردی گئی ہے، مزید تلاش جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کچھ خاص نظریات کے لوگ ہیں جو اپنی روایت کے اعتبار سے آخری رسومات ادا کرتے ہیں جن میں گنگا میں لاشوں کو بہانہ شامل ہے،
انہوں نے مزید کہا کہ یہ دعویٰ کرنا کی آخری رسومات کے لئے انتظام نہیں ہیں لکڑیاں نہیں ہیں اور دیگر ساز و سامان نہیں ہے وہ سراسر غلط ہے۔ ہم نے گاؤں کی سطح پر اس کی کثیر مقدار میں انتظامات کیے ہیں اور لوٹ گھسوٹ کرنے والو والوں پر بھی قانونی شکنجہ کسا ہے۔
ہمیرپور کے ضلع مجسٹریٹ گیانیشور ترپاٹھی نے سوموار کو جاری ایک بیان میں کہا، لوگوں سے بات چیت اور لاش کو دیکھنے سے پہلی نظرمیں یہ کورونا وائرس سے ہوئی موت سے متعلق واقعات نہیں پائے گئے۔ کیونکہ لاش کے اوپر عام روایتی کپڑے تھے اور کسی بھی لاش پر کورونا سے موت ہونے پر کی جانے والی پیکنگ نہیں تھی۔
حکام کو مقامی ماہی گیروں نے بتایا کہ جان بحق افراد کو رشتہ دارپتھر وغیرباندھ کر ندی میں ڈال دیتے ہیں اور پانی کم ہونے کی وجہ سیلاش اوپر آ گئی ہیں۔مقامی لوگوں کے کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ یہاں مشہور ہندوسنت کبیر داس کے نظریات پیروکاروں کے مطابق ابھی پنچک نکشتر چل رہا ہے، اس دوران روایت کے مطابق لوگ اکثر لاش کو جلانے کے بجائے پانی میں بہادیتے ہیں ۔