ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کے سفارتی بائیکاٹ پر پاکستان کی تنقید

دفتر خارجہ نے امریکا اور چند دیگر ممالک کی جانب سے منصوبہ بندی کے تحت بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کے سفارتی بائیکاٹ پر تنقید کرتے ہوئے کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ’پاکستان کھیلوں کو سیاست کی نذر کرنے کا مخالف ہے اور امید رکھتا ہے کہ تمام ممالک کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بیجنگ میں جمع ہوں گے۔‘

انہوں نے یہ بات ان رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئی کی کہ امریکا، کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا میزبان ملک کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ہانگ کانگ میں کریک ڈاؤن کے خلاف بیجنگ میں اپنے عہدیداران کو احتجاجاً نہیں بھیجیں گے۔

تاہم یہ ممالک اپنے ایتھلیٹس کو کھیلوں میں شرکت سے نہیں روکیں گے۔

سرمائی اولمپکس آئندہ سال 4 سے 20 فروری تک بیجنگ اور پڑوسی صوبے ہیبے کے قصبوں میں منعقد ہوں گے۔ چین نے بائیکاٹ کے اعلانات پر شدید ردعمل دیا تھا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے ’ٹھوس جوابی اقدامات‘ کی دھمکی دی تھی، تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا تھا کہ کیا اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

انہوں نے امریکا پر ’کھیل میں سیاسی غیر جانبداری‘ کے اصول کی خلاف ورزی کا بھی الزام لگایا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ اولمپکس کی میزبانی میں چین کی کامیابی کی خواہش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہمیں یقین ہے کہ کورونا وائرس کے باعث عائد پابندیوں کے باوجود بیجنگ سرمائی اولمپکس، پاکستان سمیت دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے لیے ایک شاندار اور رنگین گالا پیش کرے گا۔‘

پاکستان کی جانب سے بائیکاٹ پر تنقید امریکا کی میزبانی میں ’جمہوریت سے متعلق کانفرنس‘ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے فوری بعد سامنے آئی ہے۔

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان نے ایونٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ چین کو اس میں مدعو نہ کیے جانے کے باعث کیا ہے، جبکہ تائیوان مہمانوں کی فہرست میں شامل ہے۔

اس تاثر کو اس وقت مزید تقویت ملکی جب ژاؤ لیجیان نے ٹوئٹر پوسٹ میں پاکستان کے کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کو یہ کہتے ہوئے سراہا کہ ’حقیقی فولادی بھائی۔‘

اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کو انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی سرد جنگ کا خدشہ درپیش ہے لیکن پاکستان کسی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا۔

تاہم اسلام آباد کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بیجنگ کے ساتھ تیزی سے قریب ہو رہا ہے۔

اس بات کی بھی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ پاکستان، مغرب سے دور ہو رہا ہے۔

عاصم افتخار نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں آپ کے سوالات سے جو آرا اور تاثرات سامنے آرہے ہیں، وہ بے بنیاد ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان متعدد معاملات میں امریکا کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکا کے ساتھ اپنی شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسے دوطرفہ کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے لحاظ سے وسعت دینا چاہتے ہیں۔‘

منبع: ڈان نیوز

The post بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کے سفارتی بائیکاٹ پر پاکستان کی تنقید appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں