ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چین کے مصنوعی سورج کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ شفقنا سائنس

چین کے نیوکلیر فیوژن ری ایکٹر نے دنیا بھر کے اخبارات اور ٹیلی وژنز پر اس وقت نمایاں جگہ حاصل کر لی جب اس نے ایک مصنوعی سورج تخلیق کیا جو کہ اصلی سورج کی نسبت 5 گنازیادہ گرم تھا۔ زینہوا نیوز ایجنسی کے مطابق اس مصنوعی سورج نے دنیا کا ریکارڈ توڑ دیا کیونکہ  یہ ری ایکٹر جسے ’مصنوعی سورج‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، تجربات کے دوران سات کروڑ ڈگری سیلسیس حرارت تک پہنچ گیا جو کہ 158 ملین ڈگری فارن ہائیٹ بنتا ہے اور یہ سورج 17 منٹ تک چمکتا رہا۔ ایڈوانسڈ سپر کنڈکٹنگ ٹوکاماک (ای اے ایس ٹی) نامی مصنوعی سورج کی یہ مشین تیار کرنے کا حتمی مقصد ستاروں کے اندر ہونے والے قدرتی رد عمل کی نقل کرکے تقریباً لامحدود توانائی فراہم کرنا ہے۔
اس حوالے سے اب تک کی معلومات یہ ہیں

یہ اصلی سورچ نہیں ہے

جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے یا جعلی ٹوئٹر ویڈیوز شئیر کی گئی ہیں(ای اے ایس ٹی) کوئی تیرتا ہوا جسم نہیں ہے جس کو آسمان میں چھوڑا گیا ہے۔ درحقیقت یہ ایک ڈونٹ کی شکل کا ری ایکٹر چیمبر ہے جہاں گرم شدہ پلازما موجود ہے جو ایک طاقتور مقناطیسی میدان رکھتا ہے۔ اس سورج کا مقصد روشنی یا حرارت فراہم کرنا نہیں ہے بلکہ صاف توانائی کی فراہمی ہے تاکہ شہروں کو توانائی فراہم کی جاسکے۔اے ای ایس ٹی پروجیکٹ پر اب تک 700 ارب یورو سے زیادہ لاگت آ چکی ہے، یہ تجربہ جون تک جاری رہے گا۔نیوکلیئرفیوژن کو صاف توانائی کی زیادہ پیداوار رکھنے والا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ٹیکنالوجی میں کئی دہائیوں کی تحقیق کے باوجود ابھی اس کو لیبارٹری کے باہر نہیں کیا جاسکتا۔ اصل سورج کی طبیعیات کو نقل کرتے ہوئے، نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر جوہری مرکزے کو ضم کرتے ہیں تاکہ بڑے پیمانے پر توانائی پیدا کی جا سکے جسے بجلی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

یہ ایک ریکارڈ ہے

(ای اے ایس ٹی) سے قبل فرانس میں  آئیٹر ٹوکاماک نامی دنیا کے سب سے فیوژن ری ایکٹر کی تنصیب ہو رہی ہے۔ اس میں یورپی یونین، بھارت، جاپان، چین، کوریا، رشیا اور امریکہ مل کر کام کر رہے ہیں یعنی دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کا مالی اور سائنسی حصہ اس میں شامل ہے۔ اربوں یورو سے تعمیر ہونے والے اس ری ایکٹر میں امید ہے کہ پچاس میگا واٹ کی انجیکشن سے شروع ہونے والا ری ایکشن ہمیں پانچ سو میگا واٹ کی آؤٹ پٹ دے سکے گا۔ یہ ری ایکٹر 2003 میں 5۔6 منٹ تک کام کرتا رہا۔ جنوبی کوریا کا سپر کنڈکٹنگ ٹوکاماک ایڈوانسڈ ریسرچ  نے 2016 میں 50 ملین ڈگری سلسیس سینٹی گریڈ یعنی 90 ملین ڈگری فارن ہائیٹ پر 70 سیکنڈ تک کام کرتا رہا۔
ای اے ایس ٹی نے 2021 میں کے ایس ٹی اے آر کا ریکارڈ اس وقت توڑ دیا جب یہ  119 ملین ڈگری پر 102 سیکنڈ تک کام کرتا رہا۔ ای اے ایس ٹی نے مئی 2021 میں 101 سیکنڈ تک ناقابل یقین 120 ملین ڈگری سیلسئیس یعنی 216 ملین ڈگری فارن ہائیٹ پر کام کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کے مقابلے میں سورج کا مرکز 15 ملین ڈگری سیلئیس یعنی 27 ملین ڈگری فارن ہائیٹ کا درجہ حرات رکتھا ہے۔

صاف توانائی کے آپشنز میں اضافہ

نیوکلیر فیوژن گرین ہاؤس گیسز پیدا نہیں کرتی اور نہ ہی اس کے کوئی تابکار فالتو مواد ہوتا ہے۔  ہیفی انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل سائنس کے سائنسدان ای اے ایس ٹی کی کامیابی کو صاف توانائی کی فراہمی کے آپشنز کو مزید بڑھاوا دیں گے۔ فوسل فیولز جیسا کہ کوئلے، تیل اور قدرتی گیس کے مقابلے میں جو کہ اپنے خاتمے کے قریب ہیں اور ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہیں ، مصنوعی سورج کے لیے خام مال نہ صرف لامحدود مقدار میں دستیاب ہے بلکہ یہ آلودگی سے بھی پاک ہے۔ اس لیے انشقاقی توانائی کو مثالی جانا جاتا ہے۔

مہنگا مگر قیمتی

اے ای ایس ٹی پروجیکٹ پر اب تک 700 ارب یورو سے زائد لاگت آ چکی ہے اور یہ تجربہ رواں برس جون تک جاری رہے گا اور اس پر توقع اخراجات ایک ٹریلین ڈالرز ہیں۔طبیعیات دانوں کا یہ بھی دعوی ہے کہ اس میں ماحولیاتی تباہی کا خطرہ بہت کم ہے۔ چین کی ری ایکٹر ٹیم ایک اور نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر میگا پروجیکٹ کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی جو اس وقت فرانس کے شہر مارسل میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی تھرمونیوکلیئر تجرباتی ری ایکٹر (آئی ٹی ای آر) مکمل ہونے کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ری ایکٹر ہوگا۔چین کے ساتھ ساتھ یوروپین یونین کے تمام ممالک، برطانیہ، بھارت اور امریکہ سمیت 35 ممالک اس منصوبے کا حصہ ہیں۔
(آئی ٹی ای آر) میں دنیا کا سب بے طاقتور میگنیٹ موجود ہے جو کہ زمین کے مقناطیسی میدان کی نسبت 280،000 گنا زیادہ طاقتور مقناطیسی میدان پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی تجرباتی ری ایکٹر 2025 تک کام شروع کر دے گا۔ تاہم چین ای اے ایس ٹی پر کام نہیں روک رہا اور 2030 تک ایک مکمل اور نیا ٹوکاماک فیوژن ڈیوائس تیار کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔
جمعتہ المبارک، 14 جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post چین کے مصنوعی سورج کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ شفقنا سائنس appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں