کینیڈا میں1 کروڑ 36 لاکھ کورونا ویکسینز کچرے کی نذر ہونگی: وزارت صحت

کینیڈا ایسٹرا زینیکا کووڈ 19 ویکسین کی ایک کرو ڑ36 لاکھ خوراکیں پھینکنے پر مجبور ہوگیا ہے کیونکہ کوئی بھی انہیں استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

وزارت صحت کی جانب سے ویکسین کی یہ خوراکیں اپنے شہریوں  کےکے علاوہ  بیرون ملک دینے کی کوشش بھی کی گئی مگر کوئی بھی لینے کے لیے تیار نہیں ہوا۔

کینیڈا نے 2020 میں ایسٹرا زینیکا سے کووڈ ویکسین کی 2 کروڑ خوراکیں خریدنے کا معاہدہ کیا تھا جبکہ مارچ سے جون 2021 کے دوران 23 لاکھ شہریوں نے ویکسین کی کم از کم ایک خوراک بھی استعمال کرلی تھی۔

مگر 2021 میں ایسٹرا زینیکا ویکسین کے استعمال کے ممکنہ مضر اثر کے خدشات کے باعث کینیڈا نے فائزر اور موڈرنا ایم آر این اے ویکسینز کا استعمال زیادہ شروع کردیا تھا۔

جولائی 2021 میں کینیڈا نے کہا تھا کہ وہ ایسٹرا زینیکا ویکسین کی تمام ایک کروڑ 77 لاکھ سے زیادہ خوراکیں عطیہ کردے گا۔

مگر اب ہیلتھ کینیڈا نے بتایا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ایک کروڑ 36 لاکھ خوراکیں مدت ختم کرچکی  ہیں اور انہیں تلف کیا جائے گا۔

کینیڈا کے 85 فیصد شہریوں کی کووڈ سے تحفظ کے لیے ویکسینیشن مکمل ہوچکی ہے۔

اس کے مقابلے میں دنیا بھر کے 61 فیصد آبادی کی ویکسینیشن ہوئی ہے جن میں غریب ترین ممالک کے شہریوں کی تعداد محض 16 فیصد ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں