پاکستان کے دوست ملکوں چین اور سعودی عرب نے پاکستان کو 13 ارب ڈالر کا مالیاتی پیکیج فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جس میں خودمختار قرضوں کے ذخائر کا رول اوور، اضافی رول اوور، کمرشل قرضے، اضافی ایس ڈبلیو اے پی ایس اور آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق موخر ادائیگی پر تیل فراہم کرنے کی سہولت میں اضافہ شامل ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمدا سحاق ڈار نے کہا کہ رواں مالی سال چین 8ارب اسی کروڑ ڈالراورسعودی عرب 4ارب بیس کروڑ ڈالرفراہم کریں گے۔ دونوں ملکوں سے مالیاتی پیکیج ملنے سے پاکستانی معیشت کو سہاراملے گا وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مزیدکہاکہ چین اور سعودی عرب نے حالیہ دوروں کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں پاکستانی وفود کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جون 2023 تک اسلام آباد کی مالی ضروریات کا خیال رکھیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ چین نے 4 ارب ڈالر کے خودمختار رول اوور ڈپازٹس کو رول اوور، 3.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے اوراضافی 1.45 ارب ڈالر فراہم کرکے کی ایس ڈبلیو اے پی ایس رقم میں اضافے کا گرین سگنل بھی دیا ہے تاکہ رواں مالی سال کے لئے مجموعی چینی پیکیج 8.8 بلین ڈالر تک پہنچ جائے وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نےسی پیک پر رکے ہوئے کام کو دوبارہ شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا ۔ کراچی سے پشاور تک9ارب 80کروڑڈالر کی لاگت سے ریل لنک ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن اورکراچی سرکلر ریلوے کی مالی اعانت پر بھی اتفاق ہواہے۔ سعودی عرب کے دورے کےبارے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی جانب سے اضافی 3 ارب ڈالر کے ذخائر اور موخر ادائیگی پر تیل کی سہولت میں اضافے کی درخواست پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی تاکہ سعودی حکام 4.2 ارب ڈالر کی اضافی رقم پر غور کریں۔