پاکستان میں سردی کی لہر اوربرفباری ’’لانینا‘‘ کا متحرک ہونا قرار
کراچی: ال نینو اور لا نینا بحرالکاہل کے گہرے سمندر سے جڑی اہم موسمیاتی اصطلاحات ہیں، جو اگرچہ پاکستان سے ہزاروں میل دور وقوع پذیر ہوتی ہیں، تاہم ان کے اثرات یہاں شدید گرمی، سخت سردی، بارشوں میں کمی اور تباہ کن سیلابوں کی صورت میں نمایاں ہو جاتے ہیں۔
ال نینو سمندر کے درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافے جبکہ لا نینا سمندری پانی کے ٹھنڈا ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے کراچی سمیت ملک بھر میں سردی کی شدت اور برفباری کو لا نینا کے متحرک ہونے سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم محکمہ موسمیات نے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سردیوں کے موسم میں اگر لا نینا مضبوط ہو تو یہ بارشوں کے نظام کو روک دیتا ہے، جبکہ ملک میں حالیہ بارشیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ لا نینا اس وقت کمزور ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر اور ترجمان محکمہ موسمیات انجم نذیر ضیغم کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ موجودہ سردی معمول کی نہیں اور اسے لا نینا سے جوڑا جا رہا ہے، جو درست نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو عالمی موسمیاتی نظام میں معمولی تبدیلی سے بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ بحرالکاہل میں جنم لینے والے ال نینو اور لا نینا اگرچہ بظاہر بہت دور ہیں، مگر ان کے اثرات پاکستان میں موسم کی شدت، بارشوں کی کمی یا زیادتی اور قدرتی آفات کی صورت میں واضح طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔