واشنگٹن ڈی سی: سعودی عرب نے پاکستان کے معاشی استحکام کو تقویت دینے کے لیے اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں توسیع پر باضابطہ دستخط کردیے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس کے موقع پر منعقد ہوئی، جہاں سعودی فنڈ برائے ترقی کے سی ای او سلطان بن عبدالرحمان المرشد اور اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے متعلقہ دستاویزات پر اپنے دستخط ثبت کیے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب میں شرکت کی اور اس اقدام کو پاک سعودی برادرانہ تعلقات کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام ملے گا اور ملکی معیشت کے لیے بیرونی مالیاتی دباؤ میں کمی آئے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان کو رواں ماہ متحدہ عرب امارات کو ساڑھے 3 ارب ڈالر کی ادائیگی بھی کرنی ہے، جس میں سے کچھ رقوم کی ادائیگی کا عمل پہلے ہی جاری ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے یوروبانڈ کی مد میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی ادائیگی بھی کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے اس سہولت کی فراہمی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اپنی معاشی اصلاحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے مارکیٹ میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔
قبل ازیں اسٹیٹ بینک کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر کی خطیر رقم بھی وصول ہو چکی ہے، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین معاشی تعاون کی یہ نئی کڑی دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کا تسلسل ہے، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ نے بھی اس تعاون کو پاکستان کی معاشی خود انحصاری کے سفر میں ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے سعودی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔