ایران نے طویل تعطل کے بعد اپنی فضائی سرگرمیوں کی مرحلہ وار بحالی کا آغاز کرتے ہوئے ملک کے متعدد اہم ہوائی اڈوں کو جزوی طور پر فعال کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی تقریباً 50 دن بعد فضائی حدود میں محدود پیمانے پر پروازوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق تہران کا امام خمینی ہوائی اڈہ سمیت مشہد، بیرجند، گورگان اور زاہدان کے ہوائی اڈوں پر پروازوں کی بحالی شروع کر دی گئی ہے، جہاں ابتدائی طور پر محدود نوعیت کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی میں بتدریج کمی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی شہری ہوابازی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی فضائی راستے صبح 7 بجے سے دوبارہ کھول دیے گئے ہیں اور بین الاقوامی پروازوں کو اس حصے سے گزرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ حفاظتی جائزوں اور موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
سرکاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ملک بھر کے دیگر ہوائی اڈوں پر بھی پروازوں کی بحالی بتدریج کی جائے گی، تاہم اس عمل کے لیے کسی حتمی مدت کا اعلان نہیں کیا گیا، حالات کے مطابق پروازوں کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں علاقائی کشیدگی میں کمی کے آثار سامنے آنا شروع ہوئے ہیں، جس کے باعث پہلے عائد کی گئی پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے، تاہم تاحال مکمل بحالی کا عمل جاری ہے اور دوپہر تک پروازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی تھی۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز سمیت دو ہزار سے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ ان حملوں کے ردعمل میں ایران نے امریکا اور اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے اسرائیل پر براہ راست حملے کیے جبکہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بھی ڈرون اور میزائل کارروائیاں شروع کر دی ہیں، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ملک کی فضائی حدود کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا، جس کے باعث بین الاقوامی اور مقامی پروازیں طویل عرصے تک معطل رہی تھیں۔ اب صورتحال میں نسبتی بہتری کے بعد فضائی نظام کو بتدریج بحال کیا جا رہا ہے۔