امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کرتے ہوئے انہیں مزید ایک ماہ کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت 16 مئی تک روس سے تیل کی خریداری بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھی جا سکے گی۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی ممکنہ قلت کو کم کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیونکہ حالیہ جغرافیائی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا تھا۔
اس سے قبل بھی امریکا ایک ماہ کے لیے ایسی ہی نرمی دے چکا تھا، تاہم 11 اپریل کو پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی گئی تھیں۔
یاد رہے کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے حالیہ بریفنگ میں واضح کیا تھا کہ واشنگٹن روس اور ایران سے تیل کی خریداری کے لیے جاری عمومی لائسنس کی تجدید نہیں کرے گا، جس سے پالیسی میں بظاہر تضاد کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی منڈی میں غیر یقینی کیفیت کو مزید بڑھا دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے بھارت کو روسی تیل خریدنے کے حوالے سے دی گئی رعایت بھی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ بھارتی ریفائنریاں پہلے ہی کروڑوں بیرل روسی تیل کے آرڈرز دے چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال توانائی کی عالمی تجارت میں نئے توازن کو جنم دے سکتی ہے۔
اُدھر اطلاعات ہیں کہ کچھ بھارتی ریفائنرز نے ایران سے محدود مقدار میں تیل کی خریداری کے لیے چینی کرنسی یوان میں ادائیگیوں کا آغاز کر دیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی نظام میں متبادل راستوں کے استعمال کا رجحان بھی نمایاں ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت عالمی توانائی اور مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔