غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی سرگرمیاں ایک بار پھر نشانے پر آ گئیں، جہاں اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف سے منسلک عملے کو لے جانے والی گاڑیوں پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق متاثرہ گاڑیاں مقامی آبادی تک پینے کا صاف پانی پہنچانے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں اور یہ معمول کی ترسیلی سرگرمی کا حصہ تھیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں امدادی سرگرمیوں پر شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گاڑیاں ایک واٹر اسٹیشن سے منسلک تھیں، جہاں سے لاکھوں افراد کو صاف پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی تھی۔ ادارے نے اس واقعے کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
بیان میں اسرائیلی حکام سے زور دیا گیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور فوری انکوائری کی جائے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
واقعے کے بعد یونیسیف نے اپنے تمام ذیلی ٹھیکیداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ جب تک سکیورٹی کی مکمل یقین دہانی نہیں کروائی جاتی، اس علاقے میں امدادی سرگرمیاں معطل رکھی جائیں۔ اس پیش رفت نے پہلے سے سنگین انسانی بحران کا شکار غزہ میں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔