ایران نے افزودہ یورینیم کی امریکا کو منتقلی سے متعلق زیرِ گردش خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے نہ کوئی تجویز دی گئی اور نہ ہی ایسا کوئی اقدام زیرِ غور ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام اور میڈیا میں جن نکات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، ممکن نہیں اور یہ محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ جس طرح ایرانی سرزمین کی خودمختاری اور سالمیت ہمارے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اسی طرح افزودہ یورینیم کا معاملہ بھی قومی مفادات سے جڑا حساس ترین مسئلہ ہے، جس پر کسی قسم کی لچک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر بحری ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہا تو اسے جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
اسماعیل بقائی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ افزودہ یورینیم کو کسی بھی صورت ایران سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اس صورتحال میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے ضروری اور مؤثر اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور اسٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا، اور کسی بھی دباؤ یا بیرونی مطالبے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔